اسرائیل کی نئی مخلوط حکومت کے موقف میں تبدیلی مشکل

شاؤل موفاز

اسرائیل میں اسی ہفتے نئی مخلوط حکومت بنی ہے۔ تا ہم اس بات کا امکان نہیں ہے کہ ایران کے مبینہ نیوکلیئر ہتھیاروں کے پروگرام پر حملے کی دھمکی کے بارے میں، اسرائیل کے موقف میں کوئی تبدیلی آئے گی ۔

اس ہفتے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجامن نیتن یاہو نے حزبِ اختلاف کی بڑی پارٹی کادیما کو اپنی دائیں بازو کی حکومت میں شامل کر لیا۔ کادیما کے 28 سیاستدانوں کی شرکت سے اب پارلیمینٹ میں حکمراں مخلوط پارٹی کی نشستوں کی تعداد 94 ہو گئی۔ یہ تعداد Knesset کی کُل نشستوں کی تین چوتھائی سے بھی زیادہ ہے ۔

ان تازہ ترین واقعات نے اس قسم کی قیا س آرائیوں کو جنم دیا کہ مسٹر نیتن یاہو ایران کے خلاف فوجی حملے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ اسرائیل نے ایران پر نیوکلیئر ہتھیاروں کی تیاری کا الزام لگایا ہے۔ ایران نے اس الزام سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ حملے کی صورت میں جوابی کارروائی کرے گا۔

مغربی ملکوں نے اسرائیلی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ابھی کوئی حملہ نہ کرے اور ان سخت پابندیوں کے اثرات ظاہر ہونے کا موقع دے جو حال ہی میں عائد کی گئی ہیں تا کہ ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس لایا جا سکے ۔ ایران کے نیوکلیئر پروگرام کے بارے میں بات چیت کا نیا دور اس مہینے کے آخر میں ہو گا۔

بدھ کے روز، مسٹر نیتن یاہو نے اسرائیل کے دورے پر آئی ہوئی یورپی یونین کی پالیسی چیف کیتھرین اشٹون سے کہا کہ ایران مذاکرات کو طول دے رہا ہے۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ ایران یورینیم کو افژودہ کرنے کی کارروائی مکمل طور سے بند کرے۔

اس ہفتے نئی حکومت کا اعلان کرتے ہوئے، مسٹر نیتن یاہو نے خاص طور سے ایران کا نام نہیں لیا ۔ اور کادیما کے عہدے داروں نے کہا کہ نئی مخلوط حکومت کے لیے جو مذاکرات ہوئے ان میں ایران زیرِ بحث نہیں آیا ۔

لیکن کادیمہ کے لیڈر شاؤل موفاز نے کہ اس مسئلے کو پارٹی کے ایجنڈے میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ ’’انھوں نے کہا کہ قومی اتحاد کی حکومت کے ذریعے اسرائیل کسی بھی علاقے کی طرف سے درپیش سیکورٹی کے چیلنجوں اور خطرات کا مقابلہ کر سکے گا ۔ انھوں نے کہا کہ یہ کام سوچ سمجھ کر اور ذمہ دارانہ طریقے سے کیا جائے گا لیکن اس میں اسرائیل کے اس حق کو مد نظر رکھا جائے گا کہ اسے کسی بھی وقت اور جگہ، ملک کے اندر اور باہر، اپنے دفاع کا حق حاصل ہے ۔

موفاز جو ایران میں پیدا ہوئے تھے فوج کے سابق سربراہ اور وزیرِ دفاع ہیں ۔ مخلوط حکومت میں شامل ہونے سے پہلے انھوں نے کہا تھا کہ وہ ایران پر کسی بھی حملے کے خلاف ہیں ۔

ہیبرو یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر ابراہم ڈسکن کہتے ہیں کہ نئی مخلوط حکومت کی وجہ سے ایران کے بارے میں جو بھی فیصلہ ہو گا، شاید اسے ٹھو س حمایت حاصل ہو گی۔’’حکومت میں مختلف لوگوں کی مختلف رائیں ہیں، خاص طور سے اس وقت جب حکومت کو وسعت مل گئی ہے ۔ لیکن میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ ایک بار جو بھی فیصلہ ہوگا، چاہے وہ کچھ ہی کیوں نہ ہو، اسے پارلیمینٹ میں، اور شاید عام لوگوں میں بھی، زیادہ آسانی سے قبول کر لیا جائے گا ۔‘‘

اسرائیل میں ایسی اطلاعات گردش کر رہی ہیں کہ امریکہ کے صدر براک اوباما نے مسٹر نیتن یاہو سے کہا کہ وہ ایران پر حملہ کرنے سے باز رہیں، کم از کم نومبر میں امریکی انتخابات تک۔ مسٹر نیتن یاہو نے جنہیں وزیرِ دفاع اور فوج کے سابق سربراہ ایہود براک کی حمایت حاصل ہے، کہا ہے کہ اسرائیل کو اپنی سیکورٹی کا دفاع خود کرنا ہوگا، اور اس لیے، وہ اس قسم کی کوئی ضمانتیں نہیں دے سکتا۔

لیکن ہیبرو یونیورسٹی کے پروفیسر پیٹر میڈنگ کہتے ہیں کہ اس بات کا امکان نہیں کہ ایران پر حملہ کرنے کا کوئی بھی فیصلہ یورپ اور امریکہ کی مرضی کے بغیر کیا جائے گا۔’’اس قسم کی کارروائی کے خطرات بالکل واضح ہیں۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ کامیابی کے امکانات پر غیر یقینی کا پردہ پڑا ہوا ہے ۔ عام حالات میں، جہاں تک ایران کے بارے میں بڑے مسائل کا تعلق ہے، تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ موفاز اب کابینہ میں شامل ہو گئے ہیں۔‘‘

فلسطینی تھنک ٹینک PASSIA کے سربراہ، مہدی عبد الہادی کے خیال میں اسرائیل کی مخلوط حکومت میں شامل دھڑے ایران کے بارے میں فیصلہ کرنے میں کوئی اہم کردار ادا نہیں کریں گے ۔’’میں دیکھ رہا ہوں کہ کہ فوج کے جنرل براک، موفاز اور دوسرے لوگ، علاقے میں کچھ کارروائیاں شروع کرنے کے لیے متحد ہو رہے ہیں تا کہ اسرائیلی عوام کو یہ بتا سکیں کہ وہ با اختیار ہیں اور اس قسم کے اتحاد کی تشکیل کو جائز قرار دے سکیں۔‘‘

ان کا خیال ہے کہ کادیما کئی دھڑوں میں بٹ جائے گی اور ممکن ہے کہ تحلیل ہو جائے ۔ پارلیمینٹ میں کادیما کے ایک رکن نے پہلے ہی استعفیٰ دے دیا ہے اور پارٹی چھوڑ دی ہے ۔

اسرائیل میں بہت سے تجزیہ کار متفق ہیں کہ نئی مخلوط حکومت سے ملک کے اندر اسرائیلی حکومت کو زیادہ حمایت حاصل ہو گی، اگر اس نے ایران پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا ۔ لیکن تجزیہ کاروں کو یہ یقین نہیں کہ اس قسم کا فیصلہ کرنے سے باز رکھنے کے لیے، نئی حکومت کوئی زیادہ دباؤ فراہم کرے گی یا نہیں۔