صدر اسد کا اقتدار میں رہنا ممکن نہیں رہا: سعودی تجزیہ کار

  • بہجت جیلانی

حمص

اُنھوں نےبتایا کہ اِس وقت دس لاکھ سے زائد مصری باشندےسعودی عرب میں رہائش پذیر ہیں، جب کہ شام اور یمن کے پناہ گزینوں کی کثیر تعداد بھی سعودی عرب میں ہے

اخبار’سعودی گزیٹ‘ کے ایڈیٹر اِن چیف، ڈاکٹرخالد المعینا نے کہا ہے کہ شام میں خانہ جنگی کی سی صورتِ حال ہے، اور حالات کنٹرول سے باہر ہیں۔

’وائس آف امریکہ‘ سے بات چیت میں، تجزیہ کارکا کہنا تھا کہ، ’شام کو شروع ہی سے مسٹر اسد نہیں بلکہ پولٹبیورو اور ’گینگسٹر‘ چلا رہے تھے‘۔ یاد رہے کہ ڈاکٹر المعینا ایک سعودی اسکالر ہیں، جو روانی سے اردو بولتے ہیں۔

اُن کے بقول، اب صدر اسد کےپاس کوئی آپشن نہیں رہا، سوائے اِس کےکہ وہ اپنے نائب کو اقتدار حوالے کرکے ملک سے باہر چلے جائیں۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر معینا کا کہنا تھا کہ عرب لیگ، اقوام متحدہ اور بین الاقوامی برادری سارے ناکام ہو چکے ہیں، کیونکہ اُن کے بقول، اِنھوں نے مسٹر اسد کو کوئی واضح سگنل نہیں بھیجا، جب کہ اتنا کچھ ہوچکا ہے کہ اُن کا اقتدار میں رہنا اب ممکن نہیں رہا۔

اُن کے الفاظ میں، اب سیریئن اپوزیشن اور نیشنل فرنٹ مسٹراسد کی طرح خونخوار ہو جائیں گے، اور خاص طور پر اقلیتوں کا کافی نقصان ہوگا۔

مشرق وسطیٰ کے دوسرے ممالک کےبارے میں ایک سوال کےجواب میں نامور تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ یمن میں اب تک قتل عام جاری ہے، کیونکہ علی عبداللہ صالح کےحامی کافی گڑ بڑ کر رہے ہیں۔

مصر کے بارے میں اُن کا کہنا تھا کہ اب تک صدر کی نامزدگی نہیں ہوئی، لوگ احمد شفیق کوحسنی مبارک کا آدمی سمجھتے ہیں، جب کہ محمد مرسی کا تعلق اخوان المسلمین سے ہونے کے باعث لوگوں کے ذہن میں ڈر خوف ہے۔

اختیارات سے متعلق ایک سوال پر اُنھوں نے کہا کہ مصر کے صدر کےپاس زیادہ اختیارات نہیں ہوں گے، کیونکہ آئین میں اختیارات کو پارلیمنٹ اور فوج میں بانٹ دیا گیا ہے۔ اُن کے بقول، لگتا یہ ہے کہ مصر میں ترکی کی طرز کا کوئی انتظام ہوگا، جب کہ صدر کو اختیارات نہ دینے کی صورت میں ہنگامے ہوں گے، بالخصوص نوجوان طبقے کی طرف سے۔

اُنھوں نےبتایا کہ اِس وقت دس لاکھ سے زائد مصری باشندےسعودی عرب میں رہائش پذیر ہیں، جب کہ شام اور یمن کے پناہ گزینوں کی کثیر تعداد بھی سعودی عرب میں ہے۔

شاہ سلمان بن عبد العزیز کے ولی عہد اور سعودی عرب کے نائب وزیر اعظم کے طور پر تقرری کے بارے میں، ڈاکٹر خالد المعینا کا کہنا تھا کہ ولی عہد وسیع ملکی اور بیرونی امور کا تجربہ رکھتے ہیں، اور خادم الحرمین الشریفین کی اصلاحات کی پالیسیوں پرعمل پیرا ہوں گے۔

تفصیل آڈیو رپورٹ میں: