کراچی اولڈ سٹی: معیشت میں اہم مگر انتہائی غیر محفوظ

کراچی اولڈ سٹی

پچھلے کچھ سالوں سے یہ علاقہ اغوا برائے تاوان اور ٹارگٹ کلنگ سمیت دیگرجرائم پیشہ افراد کی وارداتوں اور بھتہ خوروں کا ’سرگرم مرکز ‘ بنا ہوا ہے
کراچی کا اولڈ سٹی ایریا ان دنوں میڈیا کی شہ سرخیوں میں ہے۔ یہ وہ تجارتی علاقہ ہے جو ملک کے سب سے بڑے شہر کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار اداکرتا ہے۔ یہاں ایک دن میں لاکھوں اور کروڑوں کے سودے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے کچھ سالوں سے یہ علاقہ اغوا برائے تاوان اور ٹارگٹ کلنگ سمیت دیگرجرائم پیشہ افراد کی وارداتوں اور بھتہ خوروں کا بھی ’سرگرم مرکز ‘ بنا ہوا ہے۔ چنانچہ، علاقے کی سیکورٹی سب سے اہم ہے ۔مگر بدقسمتی سے یہی سیکورٹی ایک مسئلہ بن گئی ہے۔

جرائم کی روک تھام کے لئے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے پہل کی اور فوری طور پر اس اولڈ سٹی ٹریڈنگ ایریا کاتفصیلی دورہ کرکے ایک سیکورٹی پلان ترتیب دیا۔ اِس پلان میں علاقے کے تاجروں کے علاوہ محکمہٴ پولیس اورسٹیزن پولیس لائژاں کمیٹی یعنی سی پی ایل سی کی مشاورت بھی شامل تھی۔

اولڈ سٹی ٹریڈنگ ایریا نہایت گنجان آباد ہونے کے ساتھ ساتھ 100سے زائد مارکیٹس اور دیگر تجارتی مراکز پر مشتمل ہے ۔ یہاں کپڑا مارکیٹ، میڈیسن مارکیٹ، اسٹیل مارکیٹ ، یارن مارکیٹ ، برتن بازار اور پلاسٹک کی مارکیٹیں تو ہیں ہی ساتھ ہی ساتھ بولٹن مارکیٹ اور جوڑیا بازارجیسے بڑے تجارتی مراکز بھی واقع ہیں۔

روزنامہ ’ایکسپریس‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق تاجروں کا اغوابرائے تاوان اور بھتہ خوری اس علاقے کا سب سے بڑا اور اہم مسئلہ ہے، جبکہ علاقے میں موٴثر حفاظتی انتظامات بھی کچھ خاص نہیں۔ اسی سبب پہلے اقدام کے طور پر علاقے میں موٴثر حفاظتی اقدامات اورجرائم پیشہ عناصرکی سخت مانیٹرنگ کے لیے ایکشن پلان پیش کیاگیا، جس کی رو سے علاقے کے متعلقہ تھانے کھارادر، رسالہ، میٹھا در اور نیپئر روڈ پرقائم تجارتی مراکز کے اطراف میں مجموعی طور پر 33 نئی پولیس چوکیاں قائم کرنے اور علاقہ بھر میں21 بیریئرزکی تنصیب کافیصلہ کیا گیا۔

علاوہ ازیں، پٹرولنگ کے لیے پولیس کی ریپڈ ری ایکشن فورس کی خدمات لینے، پولیس موبائلز کی ہمہ وقت موجودگی کو یقینی بنانے اور ہر پولیس چوکی پر ایک پولیس افسراور4 سپاہیوں کی تقرری کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ منصوبے کے تحت علاقے میں لگائے جانے والے تمام بیریئرز8 بجے شب بند کردئیے جائیں گے۔

مشترکہ ایکشن پلان کے تحت کراچی چیمبر آف کامرس نے اولڈ سٹی ٹریڈنگ ایریا کی تمام متاثرہ مارکیٹس سے دو دو نمائندے لینے کا فیصلہ بھی کیا ہے جو قیام امن کمیٹی کے رکن بھی ہوں گے ۔ یہ نمائندے کراچی چیمبر، محکمہ پولیس اورسی پی ایل سے براہ راست رابطے میں ہونگے۔

کراچی چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ہارون اگر نے میڈیا کو بتایا کہ گورنرسندھ ڈاکٹرعشرت العباد خان نے اولڈسٹی ٹریڈنگ ایریا میں کام کرنے والے تاجروں کو ہرممکن تحفظ فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے، لہٰذا مجوزہ سیکورٹی پلان پر آنے والے اضافی اخراجات بھی حکومت سندھ برداشت کرے گی۔
مجوزہ سیکورٹی پلان پر تحفظات


اولڈ سٹی ایریا کی سیکورٹی سے متعلق مجوزہ منصوبے پر تاجروں کی ایک تنظیم ’اولڈ سٹی ایریا ٹریڈرز الائنس‘ نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ مجوزہ سیکورٹی پلان مرتب کرنے کے لیے متاثرہ علاقے کے تاجروں سے مشاورت نہیں کی گئی نہ ہی کراچی چیمبر کے کسی عہدے دار نے اولڈ سٹی ایریا کا دورہ کیا ہے۔ تنظیم کے سربراہ جمیل پراچہ نے سیکورٹی پلان کو ناقابل عمل اور خامیوں سے پر قرار دیا۔

جمیل پراچہ کے مطابق مجوزہ پلان اس سے قبل فیل ہونے والے 4سیکورٹی پلانز کا چربہ ہے ۔ جمیل احمد پراچہ نے کہا کہ اولڈ سٹی ایریا میں 100سے زائد بازار شامل ہیں جس کا سیکورٹی پلان بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ سے متاثرہ تاجروں کی مشاورت سے ہی تیار کیا جانا چاہئیے۔