کراچی : امن و امان کی صورتِ حال ایک بار پھر خراب، 15ہلاک

فائل فوٹو

پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور اقتصادی مرکز کراچی میں ایک بار پھر امن و امان کی خراب صورت حال کے باعث پر تشدد واقعات میں دو روز کے دوران کم از کم 15 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ کئی زخمی شہر کے مختلف ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔

دو روز سے جاری بدامنی کی اس لہر کا سب سے ہولناک واقعہ بدھ کی صبح اس وقت پیش آیا جب پولیس کے مطابق ایک منی بس کو مسلح افراد نے ڈرائیور اور چار مسافروں سمیت اغواء کرلیا۔ بعد میں بس سمیت پانچ افراد کی لاشیں گلشنِ اقبال سے ملیں جن کے جسموں پر تشدد کے نشانات نمایاں تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ ہلاک ہونے والے افراد عام شہری تھے۔

واضح رہے کہ شہر میں تازہ کشیدگی کا سلسلہ اورنگی ٹاوٴن کے علاقے میں ایک سیاسی جماعت کے کارکن پر حملے کے بعد سے شروع ہوااور گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران شہر میں تشدد کے بیشتر و اقعات اسی ٹاوٴن کے ایک علاقے قصبہ کالونی میں پیش آئے۔ اگرچہ یہاں حالات پر قابو پانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہل کاروں کی اضافی نفری تعینات کردی گئی ہے تاہم اورنگی ٹاوٴن میں صورتِ حال بدستور کشیدہ ہے اور سماجی و کاروباری زندگی گذشتہ دو روز سے معطل ہے جبکہ لوگ خوف و ہراس کے باعث گھروں میں ہی محصور ہیں۔

ادھر قتل و غارت گری کے تازہ واقعات کے بعد پولیس کی سفارش پر محکمہ داخلہ سندھ نے ایک بار پھر کراچی میں موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد کردی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس پابندی سے ٹارگٹ کلنگ میں کمی ہوگی کیوں کہ ان واقعات میں موٹر سائیکل کا استعمال کیا جاتا ہے۔

حالیہ مہینوں کے دوران کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ کچھ دنوں کے وقفے سے دوبارہ شروع ہوجاتی ہے جس میں کئی جانوں کے ضیاع کے ساتھ ساتھ امن کی فضا بھی متاثر ہوتی ہے۔ منگل کو ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی جاری کی گئی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شہر میں رواں سال کی پہلی ششماہی میں 240 افرادسیاسی، لسانی اور فرقے ورانہ بنیادوں پر ہدف بنا کر قتل کیے جاچکے ہیں جبکہ تشدد کے ان واقعات میں اڑھائی سو عام شہری بھی ہلاک ہوئے۔