خشوگی قتل کیس: ترکی میں مقدمے کی سماعت کا تین جولائی سے آغاز

فائل

ترکی کی ایک عدالت صحافی جمال خشوگی کے قتل میں ملزمان ٹھہرائے گئے 20 سعودی اہلکاروں کے خلاف مقدمے کی کارروائی کا آغاز تین جولائی سے کر رہی ہے۔

خشوگی کی منگیتر نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ مقدمے کی سماعت کے دوران یہ معلوم ہو سکے گا کہ ان کی ہلاکت کیسے ہوئی اور ان کی لاش کو کہاں چھپایا گیا۔

ترک وکلا استغاثہ نے سعودی عرب کی انٹیلی جنس ایجنسی کے سابق نائب سربراہ احمد الاسیری اور شاہی عدالت کے سابق مشیر، سعود القہتانی پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے مبینہ بدنیتی پر مبنی سوچے سمجھے منصوبے کے تحت، ان کے قتل پر اکسایا۔

دیگر آٹھ ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے خشوگی کو گلا گھونٹ کر قتل کیا۔ تمام بیس ملزمان پر ان کی غیر حاضری میں مقدمہ چلایا جائے گا۔

جب اقوام متحدہ کے لیے سعودی عرب کے سفیر، عبدالمعلمی سے پوچھا گیا کہ کیا سعودی عرب ترکی میں چلنے والی قانونی کارروائی میں تعاون کرے گا، تو جواب میں ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے ترکی سے کہا تھا کہ وہ سعودی تفتیش کاروں کو بھی ثبوت فراہم کرے جس کا ترکی نے کوئی جواب نہیں دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ترکی سعودی عرب کے ساتھ تعاون نہیں کر رہا۔ خشوگی سعودی عرب کے ولی عہد، شہزادہ محمد بن سلمان کی طرز حکمرانی پر سخت تنقید کرتے تھے۔

استنبول میں قائم سعودی عرب کے سفارت خانے میں ہونے والے اس مبینہ قتل کی دنیا بھر میں وسیع پیمانے پر مذمت کی گئی اور اس کے نتیجے میں ترکی اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات متاثر ہوئے، جبکہ عالمی سطح پر ولی عہد کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا۔

چند مغربی حکومتوں کے ساتھ ساتھ امریکی انٹیلی جنس ایجنسی، سی آئی اے کا بھی کہنا ہے کہ ان کے نزدیک ولی عہد نے اس قتل کا حکم دیا تھا۔ تاہم، سعودی عہدیدار ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

خشوگی کو آخری مرتبہ استنبول میں سعودی عرب کے سفارتخانے میں جاتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ وہ وہاں اپنے کاغذات لینے گئے تھے جو انہیں اپنی شادی کیلئے درکار تھے۔ ترک عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ان کی لاش کے ٹکڑے کر کے عمارت سے باہر لے جایا گیا۔ ان کے بارے میں آج تک پتا نہیں چل سکا۔ ان کی منگیتر سفارتخانے کے باہر انتظار کرتی رہیں۔

خشوگی کی منگیتر کا کہنا ہے کہ ترکی میں چلنے والے اس مقدمے سے پتا چل سکے گا کہ ان کی لاش کا کیا ہوا۔

گزشتہ سال دسمبر میں سعودی عرب کی ایک عدالت نے زیادہ تر خفیہ رکھے جانے والی قانونی کارروائی کے بعد، پانچ افراد کو سزائے موت اور تین کو جیل کی سزا دی تھی۔ خشوگی کے خاندان والوں نے قاتلوں کو معاف کر دیا تھا۔

تاہم، ان کی منگیتر نے قاتلوں کو معاف نہیں کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں چلنے والے مقدمے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔

ترکی نے سعودی عہدیداروں پر تفتیش میں رکاوٹ ڈالنے اور تعاون نہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ سعودی عرب نے اس کی تردید کی ہے۔

سعودی عرب کے ولی عہد، شہزادہ محمد بن سلمان نے قتل کے احکامات جاری کرنے کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملک کا حکمران ہونے کے ناطے وہ اس قتل کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ سعودی عرب نے پہلے تو خشوگی کے قتل ہونے سے لاعلمی کا اظہار کیا۔ تاہم، بعد میں انتظامیہ کے موقف میں کئی بار تبدیلی آئی۔