خیبر پختونخواہ: سی پیک کی سکیورٹی کے لیے انتظامات کو حتمی شکل

فائل فوٹو

اربوں ڈالر کے منصوبے چین پاکستان اقتصادی راہداری پر کام تیزی سے جاری ہے جس میں چینی افرادی قوت کے علاوہ بڑی تعداد میں مقامی افراد بھی مصروف ہیں۔

منصوبے اور اس سے وابستہ افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے وفاقی سطح پر بھی کئی اقدام کیے گئے ہیں اور ملک کی سیاسی و عسکری قیادت اس عزم کا اظہار کر چکی ہے کہ اس منصوبے کو سبوتاژ کرنے کی کسی بھی کوشش سے بھرپور انداز میں نمٹا جائے گا۔

ایسے میں شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ کی حکومت نے بھی چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے تحفظ کے لیے خصوصی فورس قائم کرنے کے انتظامات کو حتمی شکل دے دی ہے۔

یہ فورس تین ہزار آٹھ سو اہلکاروں پر مشتمل ہوگی جو منصوبے اور پر کام کرنے والے عملے کو تحفظ فراہم کرے گی۔

ہزارہ ڈویژن پولیس کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل سعید وزیر نے ہفتہ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں اس کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا۔

"یہاں پر پورا ایک بریگیڈ کام کر رہا ہے۔ ان کو مقامی پولیس سے معاونت مل رہی ہے۔ نو سو سابق فوجیوں کو بھی بھرتی کیا گیا اور انھیں بھی اس میں شامل کیا جا رہا ہے اس کے علاوہ دیگر محافظ بھی ہیں جو کہ سکیورٹی دے رہے ہیں۔"

رواں ہفتے ہی پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ فوج اس منصوبے کے لیے مکمل سکیورٹی فراہم کرے گی لیکن ان کے بقول دیگر قومی اداروں کو بھی آگے بڑھ کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

چین کے شہر کاشغر سے لے کر پاکستان کے جنوب مغربی ساحلی شہر گوادر تک اس منصوبے کے تحت مواصلات، صنعتوں اور بنیادی ڈھانچے کا جال بچھایا جا رہا ہے۔

وفاقی وزارت داخلہ یہ کہہ چکی ہے کہ اقتصادی راہداری منصوبے کے تحفظ کے لیے 15 ہزار اہلکاروں پر مشتمل فورس تیار کی گئی ہے۔