لیبیا: صدراتی محل کے قریب نیٹو طیاروں کے حملے

لیبیا: صدراتی محل کے قریب نیٹو طیاروں کے حملے

نیٹو کے جنگی طیاروں نے جمعرات کے روز طرابلس میں لیبیا کے صدر معمر قذافی کی رہائش گاہ کے قریب اہداف پر حملے کیے جب کہ روس اور اٹلی اس بحران کے حل کے لیے نئی سفارتی کوششیں کررہے ہیں۔

جمعرات کی صبح دارالحکومت طرابلس کئی خوفناک دھماکوں سے گونج اٹھا اور صدر قذافی کی رہائش گاہ باب العزیزیہ کے قریب سے دھوئیں کے بادل اٹھتے ہوئے دیکھے گئے۔ یہ واضح نہیں ہے کہ نیٹو طیاروں نے کس کو نشانہ بنایا۔

ایک اور خبرکے مطابق اٹلی کا کہناہے کہ وہ مفاہمت کی اپنی کوششوں کے سلسلے میں لیبیا کے قبائلی راہنماؤں کے ایک اجلاس کی میزبانی کرے گا۔

اٹلی کے وزیر خارجہ فرانکو فراٹینی نے جمعرات کے روز کہا کہ روم میں ہونے والے اس اجلاس میں تقریباً تین سو قبائلی نمائندے شرکت کریں گے۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اجلاس کب ہوگا۔

جمعرات ہی کے روز روس کے سفارت کار میخائل مارگولف نے لیبیا کے سرکاری عہدے داروں سے طرابلس میں ملاقات کی۔ انہوں نے کہا کہ لیبیا کے عہدے داروں نے انہیں بتایا کہ استعفے کے لیے بڑھتے ہوئے دباؤ کے باوجود مسٹر قذافی اپنا عہدہ چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

روس کے خبررساں اداروں نے مارگولف کے حوالے کہاہے کہ لیبیا کے عہدے داروں نے انہیں بتایا ہے کہ حکومت اور بن غازی میں مقیم باغیوں کے درمیان براہ راست رابطوں پر کام جاری ہے۔