شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان مذاکرات شروع، طرفین پر امید

مذاکرات کے لیے کوئی سرکاری ایجنڈا نہیں رکھا گیا اور نہ ان میں کسی اہم پیش رفت کی توقع ہے اگرچہ خیال ہے کہ طرفین کے ذہن میں واضح اہداف موجود ہیں۔

شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان دو سال کے دوران پہلی مرتبہ اعلیٰ سطحی مذاکرات شروع ہوئے ہیں جن میں فریقین نے طویل عرصہ سے کشیدگی کا شکار تعلقات کو بہتر بنانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

نائب وزیر خارجہ کی سطح کا ایک اجلاس جمعے کو کائی سونگ صنعتی کمپلیکس میں ہوا جو دو ممالک کو منقسم کرنے والے غیر فوجی علاقے کے شمالی میں واقع ہے۔

جنوبی کوریا میں یونیفیکشن کے نائب وزیر ہوانگ بوگی اور ان کے شمالی کوریائی ہم منصب جون جونگ سو نے مذاکرات شروع کرنے سے قبل ایک دوسرے سے مصافحہ کیا اور اپنے بیانات میں امید کا اظہار کیا۔

ہوانگ نے کہا کہ ’’جب ہم پہلا قدم اٹھائیں تو ضروری ہے کہ پھر سیدھا چلتے جائیں۔ آئیں صحیح سمت میں پہلا قدم اٹھائیں تاکہ ہم دونوں ممالک کے اتحاد کے لیے راہ ہموار کر سکیں۔‘‘

جون نے اس کے جواب میں کہا کہ ’’بداعتمادی اور محاذ آرائی کی جڑیں گہری ہیں اور ہمارے درمیان کھڑی دیوار اونچی ہوتی جا رہی ہے۔ آئیں اس رکاوٹ کو توڑیں اور (اتحاد کے لیے) راہ ہموار کریں۔‘‘

دونوں کوریائی ممالک کی سرحد پر ایک بارودی سرنگ پھٹنے کے واقعے کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے اگست میں ایک معاہدے میں ان مذاکرات پر اتفاق کیا گیا تھا۔ بارودی سرنگ پھٹنے سے جنوبی کوریا کے دو فوجی زخمی ہو گئے تھے۔

مذاکرات کے لیے کوئی سرکاری ایجنڈا نہیں رکھا گیا اور نہ ان میں کسی اہم پیش رفت کی توقع ہے اگرچہ خیال ہے کہ طرفین کے ذہن میں واضح اہداف موجود ہیں۔

توقع ہے کہ پیانگ یانگ اپنے سیاحتی مقام ماؤنٹ کم گینگ پر جنوبی کوریا کے سیاحتی دوروں کی بحالی پر بات کرے گا۔ جنوبی کوریا نے 2008 میں وہاں اپنے ایک شہری کی ہلاکت کے بعد یہ دورے بند کر دیے تھے۔

دوسری طرف سیول چاہتا ہے کہ شمالی کوریا 1953 کی جنگ کے دوران شمالی اور جنوبی کوریا کے بچھڑنے والے خاندانوں کے درمیان زیادہ ملاقاتوں پر اتفاق کرے۔ ایسی آخری ملاقات کا اہتمام اکتوبر میں کیا گیا تھا۔

توقع ہے کہ کئی معاملات پر کوئی بات نہیں کی جائے گی، جن میں شمالی کوریا کے جوہری اور میزائل پروگرام شامل ہیں۔

جمعرات کو شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے کہا تھا کہ ان کی حکومت نے ہائیڈروجن بم تیار کر لیا ہے۔ ہائیڈروجن بم جدید ترین سائنسی ترقی کے بغیر تیار نہیں کیا جا سکتا۔

جنوبی کوریا اور مغربی ممالک کے رہنماؤں نے کہا کہ کم کے دعوے کی تصدیق کے لیے کوئی شواہد موجود نہیں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 2006، 2009 اور2013 میں زیر زمین جوہری تجربات کرنے پر شمالی کوریا پر بھاری اقتصادی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

مذاکرات کے دوران شمالی کوریا میں انسانی حقوق کے حساس معاملے پر بھی بات چیت کی توقع نہیں۔

جمعرات کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شمالی کوریا کی مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بات کے لیے ایک اجلاس منعقد کیا جہاں امریکہ کی سفیر سمانتھا پاور نے کہا کہ شمالی کوریا کی بدسلوکیوں کی پوری دنیا میں مثال نہیں ملتی۔