حکومت چین سے کوئی رابطہ نہیں: سنوڈن

چین کی وزارتِ خارجہ کی خاتون ترجمان، ہُوا چُن یِنگ نے بھی اِس بات کو مسترد کیا کہ سنوڈن نے چین کے لیے جاسوسی کی ہے، اور اِس تاثر کو ’سرے سے غلط‘ قرار دیا
برطانوی اخبار ’دِی گارڈین‘ کا کہناہے کہ امریکی خفیہ ادارے کے سابق کانٹریکٹر نے، جس نے حال ہی میں نگرانی سے متعلق چند امریکی کارروائیوں کا انکشاف کیا، اس بات کی تردید کی ہے کہ اُن کا حکومت چین سے کوئی رابطہ ہے۔

اخبار نے کہا ہے کہ ایڈورڈ سنوڈن نے یہ بات ’گارڈین ویب سائٹ‘ کی میزبانی میں پیر کے روز انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کے ساتھ ہونے والی سوال و جواب کی نشست کے دوران کہی۔

اِس ماہ کے اوائل میں امریکی دستاویزات کے بارے میں متعدد اخبارات سےانکشافات کے بعد، سنوڈن چینی کے ہانگ کانگ کےخودمختار علاقے میں روپوش ہیں۔


امریکہ کے سابق نائب صدر ڈِک چینی نے اتوار کے دِن ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں سنوڈن کی مذمت کرتے ہوئے، اُنھیں ’غدار‘ قرار دیا اور ساتھ ہی متنبہ کیا کہ نیشنل سکیورٹی ایجنسی کا یہ سابق کانٹریکٹر چینی حکام کو خفیہ امریکی اطلاعات فراہم کرسکتا ہے۔

پیر کو آن لائن انٹرویو میں سنوڈن نے اِس بیان کو ’بدنام کرنے کی متوقع کوشش‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سابق نائب صدر کی طرف سے ’غدار‘ کا لقب ’کسی امریکی کو ملنے والا ایک اعلیٰ ترین اعزاز ہے‘۔

سنوڈن کے بیان کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو پائی۔

چین کی وزارت خارجہ کی خاتون ترجمان، ہُوا چُن یِنگ نے بھی اس بات کو مسترد کیا کہ سنوڈن نے چین کے لیے جاسوسی کی ہے، اور اس تاثر کو ’سرے سے غلط‘ قرار دیا۔

پیر کے روز اپنی روزانہ بریفنگ کے دوران، ہُوا نے امریکی عہدے داروں پر زور دیا کہ وہ نگرانی کی کارروائیوں پر سامنے آنے والی بین الاقوامی تشویش پر دھیان دیں، اور اُن کے بقول، ’یہ وضاحت لازمی ہے‘۔

این ایس اے کے بارے میں انکشاف کے بعد چین کے کسی عہدے دار کا یہ پہلا بیان ہے۔

آن لائن انٹرویو کے ایک حصے کے طور پر، ’دِی گارڈین‘ نے سنوڈن کے حوالے سے کہا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس سے متعلق تجزیہ کاروں میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ بغیر وارنٹ کے امریکی شہریوں کے فون کالز اور اِی میل کی ترسیل کے عمل کو ’اتفاقیہ‘ قرار دے دیں، اگر، اُن کے بقول، ڈیٹا کا یہ حصول مشتبہ دہشت گردوں کی تلاش کے لیبل کے ساتھ بیان کیا جائے۔

سنوڈن نے دیگر امریکی سیاسی شخصیات کو بھی مخاطب کیا جِن میں صدر براک اوباما، کانگریس کے سینئر ارکان اور نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائرکٹر جیمس کلیپر شامل ہیں۔ اُنھوں نے اُن پر، ’شک کے بغیر نگرانی‘ کے عمل کو وسیع کرنے کی سازش میں شریک ہونے کا الزام لگایا، جو، اُن کے بقول، انسانی حقوق کی انحرافی کے مترادف ہے۔