امریکی سفارت کاروں کو’’ہراساں‘‘ کرنے کی مہم میں تیزی

پشاور میں امریکی شہریوں کی گاڑی کو پولیس نے روک رکھا ہے۔

حکومتِ پاکستان نےامریکی سفارت کاروں کی راہ میں رکاوٹیں حائل کرنےاور اُنھیں ہراساں کرنے کی ’’دیدہ دانستہ اور منظم‘‘ کوششوں میں ڈرامائی اضافہ کر دیا ہےجس کے باعث امریکہ کے سفارت خانےاور کونسل خانوں کی سرگرمیوں پر ’’نمایاں ضرررساں‘‘ اثرات ہو رہے ہیں۔

یہ انکشاف امریکی وزارت خارجہ کےانسپکٹر جنرل کی داخلی رپورٹ میں کیا گیا ہے جس کے مطابق مئی 2011ء میں ایبٹ آباد میں اُسامہ بن لادن کی ہلاکت اورنومبر میں نیٹو کے فضائی حملے میں 24 پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد امریکی سفارت کاروں کو ہراساں کرنے کی سرکاری کوششوں میں شدت آ گئی ہے۔

’’گزشتہ سال پیش آنے والے واقعات نے پاک امریکہ تعلقات کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور اُس مفروضے کو ہی یکسرتبدیل کردیا ہے جس پر 2009ء سے پاکستان کے ساتھ امریکہ کے تعلقات کی بنیاد رکھی گئی تھی۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان معظم احمد خان نے جمعہ کو ایک بیان صورت حال کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزارات خارجہ میں اندارج شدہ تمام غیر ملکی سفارت کاروں کو ویانا کنونش کے تحت حاصل حقوق کی فراہمی میں پاکستان کی حکومت مکمل تعاون کر رہی ہے۔

’’ یہ ساری مراعات اور تعاون امریکی سفارت کاروں اور قونصل خانے کے نمائندوں کو بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔‘‘

دفتر خارجہ کے ترجمان معظم احمد خان


امریکی وزارت خارجہ کی 76 صفحات پر مشتمل داخلی رپورٹ انسپکٹر جنرل نے جنوری اور فروری کے وسط میں اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے سمیت کراچی، پشاور اور لاہور میں کونسل خانوں کے دورے کرنے کے بعد تیار کی ہے۔

رپورٹ میں امریکی سفارت کاروں کو ہراساں کرنے کی سرکاری مہم کو ’’دیدہ دانستہ اورمنظم‘‘ قرار دیتے ہوئے سفارش کی گئی ہے کہ پاکستانی حکام کے ساتھ بات چیت میں اس کا خاتمہ اولین ترجیح ہونی چاہیئے۔

’’پاکستانی حکومت کی طرف سے رکاوٹیں اور ہراساں کرنا، جو پاکستان میں ایک وبائی مسئلہ ہے، اس نکتے پر پہنچ گئی ہے جہاں (سفارتی) مشن کی سرگرمیوں اور منصوبوں کے نفاذ کی کوششوں کو نقصان پہنچنا شروع ہوگیا ہے۔‘‘

’’دیگر ممالک کے سفارت خانوں کو بھی اسی طرح کے سلوک کا سامنا کرنا پڑا ہے مگر واضح طور پر امریکہ اس کا اصل ہدف ہے۔‘‘

رپورٹ کے مطابق ہراساں کرنے کی مہم میں ویزوں کے اجراء میں تاخیر، امدادی منصوبوں اور تعمیراتی کاموں کے لیے بھیجے جانے والے سامان کی ترسیل میں رکاوٹیں ڈالنا، سفارت کاروں کو اندرون ملک سفر کرنے کی اجازت دینے سے انکار، سفارتی مشن کے ملازمین سمیت ٹھیکیداروں کی نگرانی اور ان کے کاموں میں مداخلت شامل ہیں۔ رپورٹ میں مخصوص واقعات کی تفصیلات اور ان پر امریکی وزارت خارجہ کے ردعمل پر مبنی حصوں کو پوشیدہ رکھا گیا ہے۔