بچوں کو درپیش تمام خطرات کا احاطہ کرتے قوانین بنانے کا مطالبہ

فائل فوٹو

قوانین میں جن شعبوں میں 14 سال سے کم عمر بچوں سے مشقت کی ممانعت کا ذکر ہے ان میں گھریلو ملازم بچوں کا تذکرہ شامل نہیں

محض تین ماہ کے قلیل عرصے میں وفاقی دارالحکومت جیسے شہر سے دو کم سن گھریلو ملازم بچیوں پر ان کے آجروں کی طرف سے تشدد کیے جانے کے واقعات ملک میں خاص طور پر مشقت پر بوجوہ مجبور بچوں کی حالت زار کی سنگینی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

اسی تناظر میں بچوں کے حقوق کے لیے سرگرم کارکنان خاص طور پر ایسے قوانین بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ جن میں بچوں کو درپیش تمام خطرات کا احاطہ ہو سکے۔

سوسائٹی فار پروٹیکشن آف دی رائٹس آف دی چائلڈ "سپارک" نامی موقر غیرسرکاری تنظیم کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سعدیہ حسین کہتی ہیں کہ بچوں کے تحفظ سے متعلق رائج قوانین میں سقم ہے جسے دور کیے بغیر صورتحال میں بہتری ممکن دکھائی نہیں دیتی۔

منگل کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ بچوں سے متعلق قوانین میں جن شعبوں میں 14 سال سے کم عمر بچوں سے مشقت کی ممانعت کا ذکر ہے ان میں گھریلو ملازم بچوں کا تذکرہ شامل نہیں اور اسی لیے رونما ہونے والے بہت سے واقعات میں قانون کے مطابق مناسب کارروائی نہیں کی جاسکتی۔

"جہاں آپ قانون میں خطرناک ماحول کی تشریح کرتے ہیں وہ ورکشاپس ہیں، چمڑے کے کارخانے ہیں یا دوسری فیکٹریز ہیں یا بھٹے وغیر ہیں لیکن ان میں گھریلو ملازم بچوں کا ذکر نہیں۔"

رواں سال کے اوائل میں اسلام آباد میں ایک ماتحت عدلیہ کے جج کے گھر سے پولیس نے طیبہ نامی ایک دس سالہ بچی کو برآمد کیا تھا جس کے جسم پر زخموں کے نشانات تھے۔ اس واقعے کا سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیا تھا اور ان دنوں یہ معاملہ عدالت عالیہ کے سامنے ہے۔

گزشتہ ہفتے اسلام آباد کے ہی ایک رہائشی علاقے سے پولیس نے 11 سالہ گھریلو ملازمہ کو برآمد کیا جسے اس کے آجروں کی طرف سے مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔

اس بچی کا تفصیلی طبی معائنہ کرنے والے ڈاکٹروں نے پیر کو تصدیق کی تھی کہ اس کے جسم پر مختلف زخموں کے نشانات ہیں اور تجزیے سے پتا چلا ہے کہ اسے مختلف اوقات میں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔

جس گھر میں یہ لڑکی ملازمت کر رہی تھی وہاں کی مالکن اور اس کے بیٹے کو پولیس نے حراست میں لیا تھا جنہیں بعد ازاں ضمانت پر رہائی دی جا چکی ہے۔

سعدیہ حسین نے بتایا کہ اس وقت اسلام آباد میں بچوں کے لیے کوئی ایسا سرکاری مرکز نہیں ہے کہ جہاں تشدد اور ایسے واقعات کے شکار بچوں کو عارضی طور پر رکھا جا سکے۔

"جب بچہ تھانے آتا ہے تو ایک ہنگامی حالت بن جاتی ہے کہ اس بچے کو رات کہاں رکھا جائے تو باقاعدہ کوئی حکمت عملی ہو ایک مرکز دیا جائے بچوں کو جیسے پنجاب میں چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے پاس یہ اختیار ہے۔ ابھی جب (اسلام آباد میں) آپ کے پاس کوئی واقعہ ہوتا تو کبھی بچے کو سویٹ ہوم بھیج دیتے ہیں تو کبھی کرائسز سینٹر۔"

سماجی فلاح کے سرکاری محکمے کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں سامنے آنے والی تجاویز اور سفارشات پر عمل کیا جا رہا ہے جب کہ موجودہ حکومت میں شامل عہدیدار یہ کہتے آئے ہیں کہ جہاں حالیہ برسوں میں خواتین اور بچوں کے حقوق کے لیے مناسب قانون سازی کی گئی ہے وہیں ان میں مزید بہتری کے لیے بھی اقدام کیے جا رہے ہیں۔