رسائی کے لنکس

اسلام آباد میں ایک اور کم سن گھریلو ملازمہ پر مبینہ تشدد


فائل فوٹو

گولڑہ پولیس اسٹیشن کے ایک عہدیدار نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں اس واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے لڑکی کی درخواست پر چار افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے جن میں دو خواتین اور دو مرد شامل ہیں۔

پاکستان میں لاکھوں کی تعداد میں بچے غربت و افلاس کی وجہ سے ناصرف تعلیم سے محروم ہیں بلکہ ان کی ایک بڑی تعداد گھروں اور دیگر جگہوں پر مشقت کرنے پر مجبور ہے اور اکثر ان کے ساتھ ناروا سلوک کے واقعات بھی سامنے آتے رہتے ہیں۔

وفاقی دارالحکومت میں ماتحت عدلیہ کے جج میں موجود کم سن گھریلو ملازمہ پر ہونے والے مبینہ تشدد کی بازگشت ابھی جاری تھی کہ جمعہ کو اسلام آباد میں ایک اور ایسا واقعہ منظر عام پر آیا جس میں ایک گیارہ سالہ گھریلو ملازمہ کو اس کے مالکان کی طرف سے مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

گولڑہ پولیس اسٹیشن کے ایک عہدیدار نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں اس واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے لڑکی کی درخواست پر چار افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے جن میں دو خواتین اور دو مرد شامل ہیں۔ ان میں گھر کی مالکن ان کے ایک بیٹے اور بیٹی کے علاوہ ان کا ایک گھریلو ملازم بھی شامل ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ گزشتہ چار سال سے اس گھر میں بطور ملازمہ کام کر رہی تھی جس دوران اسے جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

عہدیدار نے کہا کہ ان میں دو ملزموں کو گرفتار کر کے ہفتہ کو ایک مقامی مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا اور پولیس نے ان کے ریمانڈ کی درخواست کی جسے مسترد کر دیا گیا اور دونوں ملزموں کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ دو دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لئے پولیس کوشش کر رہی ہے اور لڑکی کا طبی معائنہ بھی کروا لیا گیا جس میں بظاہر لڑکی کو تشدد کا نشانہ بنانے کے شواہد ملے ہیں تاہم انہوں نے اس کی تفصیل بیان نہیں کی ہے۔

پاکستان میں بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ ملک میں بچوں کی مشقت سے متعلق قانون موجود ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ صرف ان بچوں سے متعلق ہے جو گھروں سے باہر کام کرتے ہیں اور گھروں میں کام کرنے والے بچوں سے متعلق ملک میں کوئی قانون موجود نہیں ہے۔

بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے سرگرم سینیئر قانون دان انیس جیلانی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایسے بچوں پر تشدد کے واقعات کی ایک بڑی وجہ ایسے قوانین کا فقدان ہے۔

"یہ تو کوئی کیس سامنے آ جاتا ہے کسی بچے یا بچی کے ساتھ کوئی ظلم کرتا ہے تو یہ بات سامنے آ جاتی ہے لیکن اگر کوئی بچہ گھر میں کام کر رہا ہے اور بیشک اس پر ظلم نا بھی کیا جا رہا ہو وہ بھی ظلم ہے کہ وہ بچہ اسکول نہیں جا رہا ہے۔"

انہوں نے کہا کہ اس صورت حال کا تدارک اسی صورت میں کیا جا سکتا ہے کہ جب بچوں کے بطور گھریلو ملازم کام کرنے پر پابندی ہو۔

"قوانین ضروری ہوتے ہیں اور وہ پورے معاشرے کو ایک بنیاد فراہم کرتے ہیں جب معاشرے میں قانون نہیں ہے تو آپ اس کی اجازت دے رہے ہیں کہ وہ بچوں کو گھروں میں رکھیں اور جب وہ گھروں میں ملازم رکھیں گے تو پھر ان کے ساتھ ظلم بھی ہو گا۔"

رواں سال کے اوائل میں ایک مقامی عدالت کے جج کے گھر پر کام کرنے والی کم سن ملازمہ طیبہ کو بھی پولیس نے برآمد کیا تھا جسے مبینہ طور پر جج اور اس کی اہلیہ نے تشدد کا نشانہ بنایا تھا اور ان کے خلاف مقدمہ زیر سماعت ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG