'جمہوری اقدار خطرے میں دکھائی دیتی ہیں'

فائل فوٹو

انتخابی اصلاحات کے نئے قانون میں ختم نبوت سے متعلق شقوں میں حکومت کے بقول سہواً الفاظ کی تبدیلی کو درست کیا جا چکا ہے لیکن اس معاملے پر مذہبی حلقوں خصوصاً لبیک یارسول اللہ اور سنی تحریک حکومت کے پر باندھتی نظر آتی ہے۔

اپنی آئینی مدت کے آخری سال میں حکمران جماعت مسلم لیگ ن کو پے در پے مختلف سیاسی چیلنجز کا سامنا ہے جن میں آئے روز اضافہ ہوتا دکھائی دیتا ہے لیکن حکمران جماعت کے سینیئر اراکین حکومت پر ہونے والی تنقید کو ایک سازش قرار دے کر مسترد کرتے ہیں اور مبصرین کے بقول فی الوقت ملک میں سیاسی درجہ حرارت جس حد تک بڑھ چکا ہے اس میں کمی کے لیے سیاسی قائدین کو بالغ نظری اور تدبر کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔

رواں سال جولائی میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں نواز شریف کی وزارت عظمیٰ کے منصب سے علیحدگی کے بعد سے وقتاً فوقتاً حکمران جماعت میں دھڑے بندیوں کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں لیکن اعلیٰ قیادت انھیں افواہیں قرار دیتی آئی ہے۔

انتخابی اصلاحات کے نئے قانون میں ختم نبوت سے متعلق شقوں میں حکومت کے بقول سہواً الفاظ کی تبدیلی کو درست کیا جا چکا ہے لیکن اس معاملے پر مذہبی حلقوں خصوصاً لبیک یارسول اللہ اور سنی تحریک حکومت کے پر باندھتی نظر آتی ہے۔

رواں ہفتے ہی ان مذہبی جماعتوں نے فیض آباد میں تین ہفتوں پر محیط اپنے دھرنے کو فوج کی ثالثی میں وفاقی وزیرقانون زاہد حامد کے استعفے کے بعد ختم کیا تھا۔

اسی دوران ایسی خبریں سامنے آئی ہیں کہ مسلم لیگ ن کے ایک درجن سے زائد مرکزی اور صوبائی ارکان اسمبلی نے اپنے استعفے پنجاب کی ایک بااثر روحانی شخصیت پیر حمید الدین سیالوی کو جمع کروائے ہیں اور اس کی وجہ ختم نبوت کے معاملے پر ہونے والی قانون سازی میں غلطی کو قرار دیا جا رہا ہے۔

حکومتی ارکان ان اطلاعات کو مسترد کرتے ہیں۔

سینیئر تجزیہ کار اور پشاور یونیورسٹی کے شعبہ پولیٹیکل سائنس کے سربراہ ڈاکٹر اے زیڈ ہلالی موجودہ صورتحال میں حکومت کو درپیش چیلنجز اور سیاسی ماحول میں پائی جانے والی کشیدگی کو جمہوریت اور ریاست کے لیے تشویشناک خیال کرتے ہیں۔

بدھ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں انھوں نے اس خیال کا اظہار کیا کہ ملک میں پروان چڑھنے والی جمہوری اقدار بظاہر خطرے میں پڑتی دکھائی دے رہی ہیں اور یہ صورتحال کسی بھی طور سیاسی نظام کے لیے سود مند نہیں ہوگی۔

"جو 2008ء اور 2013ء کے انتخابات کے بعد نظر افہام و تفہیم اور بالغ نظری نظر آ رہی تھی لگتا ہے وہ اپنے سیاسی محور سے باہر نکلتی جا رہی ہے اور دوسری طرف حکومت کی طرف سے بھی چیزوں سے جس طرح نمٹنے کی کوشش کی گئی اس میں بھی ادراک کی کمی دکھائی دیتی ہے۔۔۔ابھی بھی وقت ہے سیاسی و جمہوری قوتیں مل کر ایک نکتے پر متفق ہوں کیونکہ جمہوریت کو اگر اب صدمہ پہنچا تو پھر اس کا واپس آنا مشکل ہو گا۔"

اسی دوران سنی اتحاد کونسل نامی تنظیم کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا کی طرف سے یہ بیان سامنے آیا ہے کہ ختم نبوت سے متعلق الفاظ کو تبدیل کرنے کے معاملے پر الحنست مکتبہ فکر کے علما یہ فتویٰ لانے پر غور کر رہے ہیں کہ مسلم لیگ ن کو ووٹ ڈالنے کو حرام قرار دیا جائے۔

اس بارے میں مسلم لیگ ن کا ردعمل جاننے کے لیے کی جانے والی کوششیں اس خبر کے جاری ہونے تک بارآور ثابت نہیں ہو سکی تھیں۔