آبادی کی شرح میں ’’خطرناک اضافہ‘‘، کنٹرول کیلئے مؤثر مہم چلائیں گے: عمران خان

فائل

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں آبادی کی شرح میں ’’خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے، جسے کنٹرول کرنا ہوگا‘‘، اور یہ کہ ’’اس کے لیے حکومت ایک مؤثر مہم چلائے گی‘‘۔

اسلام آباد میں بڑھتی آبادی پر منعقدہ سمپوزیم سے خطاب میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’’ملکی آبادی بہت تیزی سے بڑھتی جا رہی ہے اور درخت کم ہوتے جا رہے ہیں‘‘۔

عمران خان نے کہا ہے کہ ’’ملک میں آبادی کا بڑھنا ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ میں چیف جسٹس صاحب کا شکر گزار ہوں، کیونکہ انہوں نے اس معاملے کو اٹھایا، جو چیف جسٹس نے کام کیے وہ جمہوری حکومتوں کو کرنے چاہیے تھے‘‘۔

وزیر اعظم عمران خان نے اپنی حکومتی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں انتخابات ہوتے تھے۔ لیکن، قانون پر عمل درآمد نہیں ہوتا تھا۔ جمہوری حکومتیں صرف 5 سال کیلئے سوچتی تھیں۔ فوری فوائد کے حصول پر مبنی سوچ کی وجہ سے ملک مشکلات کا شکار ہوا‘‘۔

بقول اُن کے، ’’پاکستان میں بہتری کے دور کا آغاز ہوگیا ہے۔ ملکی ادارے خود مختار ہو رہے ہیں۔ چیف جسٹس ہر طاقتور کو قانون کے نیچے لا رہے ہیں۔ بڑے بڑے قبضہ گروپوں پر چیف جسٹس اور حکومت بھی ہاتھ ڈال رہی ہے‘‘۔

انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ’’انشا اللہ آنے والے دنوں میں قرضوں سے بھی نجات مل جائے گی‘‘۔

اس سے پہلے چیف جسٹس، ثاقب نثار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’وسائل محدود اور ضروریات لامحدود ہیں۔ گزشتہ 60 سال میں بڑھتی ہوئی آبادی کنٹرول کرنے پر کوئی توجہ نہیں دی۔ بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے ہمارے وسائل مسلسل دباؤ کا شکار رہے ہیں۔ اگر آبادی ایسے ہی بڑھتی رہی تو 30سال بعد پاکستان کی آبادی 45 کروڑ ہوگی۔‘‘

اُنھوں نے کہا کہ ’’بڑھتی ہوئی آبادی کو کنٹرول کرنے کیلیے سپریم کورٹ نے جو حصہ ڈالنا تھا وہ ڈال دیا ہے۔ اب ہمیں آبادی پر قابو پانے کے لیے آگہی پھیلانی ہے اور اس حوالے سے عملی کام کرنے کا وقت ہے، کیونکہ پاکستان کی بقا کیلیے ہم نے آبادی کو کنٹرول کرنا ہے‘‘۔

تقریب میں وزیر نے پانامہ کیس کے حوالے سے بھی بات کی اور کہا کہ پاناما انکشافات کے بعد کسی نے سوچا نہیں تھا کہ وزیر اعظم کو بھی جواب دینا ہوگا۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’پاناما فیصلے کے بعد جن بوتل سے باہر آ چکا ہے۔ اب کوئی نہیں سوچے گا کہ وہ قانون سے بالاتر ہے۔ چیف جسٹس نے پاناما لیکس کا فیصلہ کرکے نئے پاکستان کی بنیاد رکھ دی تھی‘‘۔