کم عمر لڑکیاں غربت، لاعلمی اور خوف کے باعث شادی پر مجبور

بنگلہ دیش، بھارت اور نائیجر سب سے زیادہ متاثرہ ممالک ہیں جہاں ہر چار لڑکیوں میں سے تین کی شادی 18 سال سے کم عمر میں کر دی جاتی ہے۔

ایک سترہ سالہ چیچن لڑکی کی اپنے سے 30 سال بڑی عمر کے پہلے سے شادی شدہ پولیس افسر سے شادی پر روس اور اس کے باہر آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق دلہن کو زبردستی شادی پر مجبور کیا گیا اور اس کے والدین کی رضامندی حاصل کرنے کے لیے ڈرایا دھمکایا گیا۔ اس شادی نے جسے چیچن رہنما رمضان قادریوف کی حمایت حاصل تھی ترقی پذیر ملکوں میں کم عمر کی لڑکیوں کی حالتِ زار پر ایک مرتبہ پھر توجہ مبذول کروائی ہے۔

روسی قانون میں جبری اور کم عمری کی شادیوں اور ایک سے زیادہ شادیوں کی ممانعت ہے۔ مگر روس کے دور دراز قفقاز کے علاقوں میں ریاستی قانون کی نسبت قبائلی قوانین اور روایات زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ ہفتے کو 47 سالہ نزہود گوچیکوف کی 17 سالہ دلہن سے شادی کی تقریب ہوئی۔

چیچن رہنما قادریوف نے اس تقریب میں شرکت کی اور ان کے ایک معاون دلہن کی طرف سے شریک ہوئے۔ پولیس نے روسی صحافیوں کو جو اس متنازع شادی کی تحقیقات کر رہے تھے، کو خبردار کیا تھا کہ وہ اس سے دور رہیں۔

بچوں کی شادی کے خلاف قوانین کے باوجود ترقی پذیر ممالک میں ہر تین میں سے ایک لڑکی کی 18 سال سے کم عمر میں شادی کر دی جاتی ہے جبکہ نو میں سے ایک کی شادی 15 سال سے کم عمر میں کر دی جاتی ہے۔ اس مسئلے پر رواں ہفتے مراکش میں ہونے والے ایک سمپوزیم میں بات کی گئی۔

’گرلز ناٹ برائیڈز‘ نامی ایک تنظیم کی سربراہ لکشمی سندرم نے کہا ’’ہمیں احساس ہے کہ اگر ہم نے اپنے کام کی رفتار نہ بڑھائی اور اگر ہم نے زیادہ پروگرام شروع نہ کیے تو 2050ء تک ایک ارب بیس کروڑ کم عمر لڑکیوں کی شادی ہو جائے گی۔‘‘

بنگلہ دیش، بھارت اور نائیجر سب سے زیادہ متاثرہ ممالک ہیں جہاں ہر چار لڑکیوں میں سے تین کی شادی 18 سال سے کم عمر میں کر دی جاتی ہے۔ یہ رواج مستقل غربت اور صنفی عدم مساوات کے باعث جاری ہے اور عموماً لڑکی کے والدین اس کا اہتمام کرتے ہیں۔

نائیجیریا میں بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی صدیقو موسیٰ نے کہا، ’’ہمیں سب سے پہلے والدین کی سطح پر مداخلت کرنی چاہیئے۔ دوسری سطح برادری کی سطح ہے، کہ برادری اس کے خطرات کا شعور حاصل کر سکے۔‘‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ متاثرہ ممالک میں حکومتوں کو لڑکیوں کی تعلیم جاری رکھنے اور انہیں استحصال اور تشدد سے بچانے کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔