ریانا برطانیہ کی امیر ترین خاتون گلوکارہ بن گئیں

برطانیہ کے دولت مند موسیقاروں کی فہرست میں 32 سالہ ریانا واحد خاتون ہیں۔ (فائل فوٹو)

امریکی نژاد برطانوی گلوکارہ ریانا کو برطانیہ کی سب سے امیر خاتون گلوکارہ بن گئی ہیں جس کے ساتھ ہی وہ 20 برطانوی دولت مند مرد اور خواتین موسیقاروں کی فہرست میں تیسرے نمبر پر آ گئی ہیں۔

ان کی دولت کا تخمینہ 486 ملین پاؤنڈ لگایا گیا ہے جو 576 ملین امریکی ڈالرز کے مساوی ہے۔

'سنڈے ٹائمز' کی مرتب کردہ سب سے زیادہ دولت مند گلوکاروں/موسیقاروں کی اس فہرست میں پہلے نمبر پر اینڈیولائیڈ ویبر ہیں جب کہ دوسرے نمبر پر پال میک کارٹنی ہیں۔ دونوں فن کار آٹھ، آٹھ سو ملین ڈالرز کے اثاثے رکھتے ہیں۔

یکساں مالیت کے اثاثے رکھنے کے باوجود اینڈیو لائیڈ ویبر کی پہلی پوزیشن پر آنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کے اثاثے گزشتہ برسوں کے مقابلے میں صرف 20 ملین کم ہوئے ہیں۔ پال میک کارٹنی 50 ملین ڈالرز کے اضافے کے بعد اس مقام پر پہنچے ہیں۔

باالفاظ دیگر اینڈریو، پال میک کے مقابلے میں پہلے ہی سے زیادہ اثاثوں کے مالک تھے۔

دولت مند موسیقاروں کی فہرست میں 32 سالہ ریانا واحد خاتون ہیں۔ فہرست میں شامل دیگر موسیقاروں میں مک جیگر، کیتھ ریچرڈز، ایلٹن جان اور راڈ اسٹیورڈ کے نام بھی شامل ہیں۔

ریانا، گلوکارہ ہونے کے ساتھ ساتھ برطانیہ کے معروف فیشن اور کاسمیٹکس برانڈز کی بھی مالک ہیں۔ وہ بارباڈوس میں پیدا ہوئی تھیں لیکن 2019 میں وہ برطانوی دارالحکومت لندن منتقل ہو گئی تھیں۔

فہرست ایلٹن جان 360 ملین پاؤنڈز کے اثاثوں کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہیں جب کہ ان کے بعد آنے والی پوزیشنز پر بالترتیب سر مک جیگر، اولیویا اور ڈھانی ہیریسن، کیتھ ریچرڈز، سررنگو اسٹار، مائیکل فلیٹلی، ایڈ شیران، سر راڈ اسٹیورڈ، اسٹنگ، برائن مے، روجر واٹرز، روبی ولیمز، کیلون ہیرس، ایریک کلپٹن، سرٹام جونز، روجر ٹیلر اور چارلی واٹس کے نام ہیں۔

امیر ترین برطانوی موسیقاروں کی فہرست ترتیب دینے والے رابرٹ واٹس کا کہنا ہے کہ ریانا حالیہ برسوں کے دوران امیر ترین موسیقاروں کی فہرست میں آنے والے فن کاروں میں مثالی حیثیت رکھتی ہیں۔

رابرٹ واٹس کے مطابق ریانا کو ورثے میں خاصی دولت ملی تھی اس کے بعد وہ خود اپنی صلاحیتوں سے اپنی آمدنی میں اضافہ کرنے میں کامیاب رہی ہیں۔

ان کے بقول، "ریانا کو سیلف میڈ بھی کہا جاسکتا ہے حالانکہ ابتدا میں انہیں بہت سی مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ لیکن وہ محض اپنی محنت کے سہارے یہاں تک پہنچنے میں کامیاب رہیں۔"

واٹس کا مزید کہنا ہے کہ کنسرٹ آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ ہیں لیکن رواں برس کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے سبب ہر طرف خاموشی ہے۔ موسیقی کے آلات نئی دھنوں سے محروم ہیں مگر آنے والے سالوں کے حوالے سے توقع ہے کہ دولت مند موسیقاروں کی فہرست میں شامل بہت سے افراد کی دولت میں مزید تیزی سے اضافہ ہو گا۔