فروغ تعلیم، شہزاد رائے اور امریکی بینڈ ہمنوا ہوگئے

شہزاد رائے کی ہی طرح ’گنز اینڈ روزز‘ کے سابق ڈرمر میٹ سورم بھی امریکا میں آرٹس ایجوکیشن کی پروموشن میں مصروف ہیں
پاکستان اور بیرون ملک بھلا کون شہزاد رائے سے واقف نہیں۔ شہزاد رائے نہ صرف پاکستان کے پاپ موسیقی کے آسمان کا چمکتا ہوا ستارہ ہیں، بلکہ موسیقی کے ذریعے معاشرے میں بہتری اور ترقی لانے کے لئے پرعزم ہیں۔

پچھلے کافی عرصے سے شہزاد رائے اپنی فلاحی تنظیم ’زندگی‘ ٹرسٹ کے پلیٹ فارم سے عام لوگوں کی فلاح و بہبود کے کاموں میں مصروف ہیں اور ان کا فوکس خاص طور پر تعلیم پر ہے۔اپنی انہی کوششوں کو بڑھاوا دینے کے لئے، شہزاد رائے پہنچے امریکا اور مشہورزمانہ امریکی بینڈ ’گنز اینڈ روزز‘ کے سابق بینڈ ممبرز کے ساتھ موسیقی کے رنگ کچھ اس انداز میں بکھیرے کہ سننے والے جھوم اٹھے اور ان کے لئے یہ شام بن گئی انتہائی یادگار۔

شہزاد رائے کی ہی طرح ’گنز اینڈروزز‘ کے سابق ڈرمر میٹ سورم بھی امریکا میں آرٹس ایجوکیشن کی پروموشن میں مصروف ہیں۔’ایڈاپٹ دا آرٹس فاوٴنڈیشن‘ پبلک اسکولز میں تخلیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لئے سلیبریٹرز کو جمع کرتی ہے۔ شہزاد رائے اور ’گنزاینڈروزز‘ کے سابق بینڈ ممبرز کو ایک جگہ جمع کرنے کا سہرا بھی اسی تنظیم کے سر ہے۔

گنز اینڈروزز اور شہزاد رائے ایک جگہ پرفارم کریں اور ان کے پرستار پرجوش اور خوش نہ ہوں۔ ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔ فینز کے ساتھ ساتھ کنسرٹ میں حصہ لینے والے آرٹسٹس بھی کچھ کم ’ایکسائیٹڈڈ‘ نہیں تھے۔

شہزاد رائے نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میوزک کی دنیا کے بڑے نام میٹ سورم کے ساتھ پرفارم کرنا اعزاز کی بات ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان کچھ منفی چیزوں کی ایکسپورٹ کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ لیکن، جو کاز میں لے کر آیا ہوں وہ بالکل مختلف اور پوزیٹو ہے۔ میوزک معاشرے میں تبدیلی لانے کا ایک طاقت ور ذریعہ ہے۔

میٹ سورم بھی شہزاد سے متقق نظر آئے۔ ان کا کہنا تھا یہ پاکستان اور امریکا کے درمیان موجود فاصلے کم کرنے کی پرامن اور زبردست کوشش تھی۔میں محسوس کرتا ہوں کہ اس طرح کے مشترکہ پروجیکٹس مشرق اور مغرب کے درمیان امن اور فاصلوں کو مٹانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ میوزک انسانیت کی عالمی زبان ہے۔ اگر میں اور شہزاد بچوں کی مدد اور تعلیم کے لئے ہاتھ ملا سکتے ہیں تو آنے والی نسلوں کی بہتری کے لئے دوسرے بھی ان کوششوں میں ہمارا ساتھ دینے کے لئے ہمیں جوائن کرسکتے ہیں۔ اس سے دونوں ملکوں کی نئی نسل کو ایک دوسرے کے کلچر کو جاننے میں بھی مدد ملے گی۔

روزنامہ ’ایکسپریس ٹربیون‘ کے مطابق لاس اینجلس یونیفائیڈ اسکول ڈسٹرکٹ میں 50فیصد ایلیمینٹری اسکولز آرٹس کی تعلیم سے محروم ہیں، جس کی وجہ ہے بجٹ میں کٹوتی۔ صرف یہی نہیں بلکہ80فیصد اسٹوڈنٹس ایسے ہیں جو غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں اور ان کے لئے اسکول سے نکل کر بھی آرٹس کی تعلیم حاصل کرنا ممکن نہیں۔ان حالات کو دیکھتے ہوئے ہی ’ایڈاپٹ دا ٓرٹس‘ نے آرٹ کی تعلیم کو بچانے کا بیڑہ اٹھایا ہے۔

لاس اینجلس کے ایک ہوٹل میں شہزاد رائے اور گنزاینڈروزز کے سابق بینڈ ممبرز کے کنسرٹ کا اہتمام کرنے والی ایونٹ مینجمنٹ کمپنی پرینر گروپ کی نمائندہ سعدیہ اشرف کا کہنا تھاکہ 8000 ہزار میل کی دوری کے باوجود میوزک کی کہکشاں کے دو جگمگاتے ستاروں شہزاد رائے اور میٹ سورم کا ایک ہی مقصد یعنی تعلیم کو عام کرنے کے لئے اپنے اپنے ملکوں میں این جی اوز بنانا کمال کی بات ہے۔ ان اسٹارز کی کشش سے یقیناً بہت سے لوگ اس نیک کام میں حصہ لینے پر تیار ہوجائیں گے۔

سعدیہ کہتی ہیں کہ ہم تقریباً ایک ہی جیسے ہیں اور ہماری آنے والی نسلیں گلوبل ولیج میں سوشل میڈیا اور کمیونکیشنز کے یونیورسل کلچر میں زندگی بسر کریں گی۔ اسی لئے، ان کی بھلائی کے لئے ذات پات، مذہب اور کلچر سے ماورا سب کو مل کر کام کرنا چاہئیے۔ پاکستان میں بچوں کی غربت کی زندگی اور تعلیم سے محرومی کی طرف دنیا کی توجہ مبذول کرانے کا میوزک سے اچھا اور کوئی طریقہ نہیں۔

کنسرٹ میں شہزاد رائے نے نہ صرف اپنے پرانے مقبول گانے گائے بلکہ نیا گانا ’لینڈ آف پیور‘ گنز اینڈ روزز کے پرانے ممبرز کے ساتھ پرفارم کرکے سماں باندھ دیا۔