پاکستان میں ’دھرنا سیاست‘

Sit-in-Politics

ڈاکٹر طاہر القادری کا دھرنا کیا ’مشہور‘ہوا، دیگر جماعتوں نے بھی گویا ’دھرنے‘ کو کامیابی یا کم ازکم اپنی بات منوانے کا آزمودہ اور کارگر نسخہ سمجھ لیا ہے
پاکستانی سیاست ان دنوں بظاہر ’دھرنوں‘ کے گرد گھومتی نظر آرہی ہے۔ تحریک منہاج القرآن کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری کا اسلامآباد میں 14جنوری سے 17جنوری تک چلنے والا دھرنا کیا ’ شہور‘ہوا، دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی گویا ’دھرنے‘ کو کامیابی یا کم ازکم اپنی بات منوانے کا آزمودہ اور کارگر نسخہ سمجھ لیا ہے۔ شاید اسی لئے ملک بھر میں فی الوقت کم ازکم چار دھرنوں کی گونج سنائی دے رہی ہے۔

کراچی میں 9 سے زائد جماعتوں کا دھرنا

اس جانب پہلا قدم اٹھایا کراچی میں جماعت اسلامی، مسلم لیگ نواز، تحریک انصاف، جمعیت علمائے اسلام (ف)، جمعیت علمائے پاکستان، عوامی مسلم لیگ، سنی تحریک، عوامی تحریک اور اہل سنت والجماعت اور دیگر نے۔ ان جماعتوں نے 26جنوری سے 28جنوری تک صوبائی الیکشن کمیشن کراچی کے دفتر کے باہر 3روزہ دھرنے کا اعلان کیاتھا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ کراچی کی انتخابی فہرستوں کی درستگی میں فوج کو شامل کیا جائے۔

احتجاجی جماعتوں کے رہنماوٴں کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے تصدیقی عمل کو فوج سے مشروط کیا تھا، مگر بقول ان رہنماوٴں کے فوج گھر گھر جا کر انتخابی فہرستوں کی تصدیق میں حصہ نہیں لے رہی۔ تاہم، وہ اس عمل سے دور رہ کر امن و امان کی صورتحال کی نگراں ہے۔

پچھلے تین دنوں سے جاری یہ دھرنا پیر کو ختم ہوگیا۔ اس حوالے سے جماعت اسلامی کے رہنما محمد حسین محنتی نے میڈیا کے روبرو دعویٰ کیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر نے ووٹر لسٹوں کی درستگی میں فوج اور ایف سی اہلکاروں کی موجودگی اور نئی حلقہ بندیوں سے متعلق ان کے مطالبات کو تسلیم کرلیا ہے۔

مسلم لیگ ن کا متوقع دھرنا

ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت پاکستان مسلم لیگ ن بھی مضبوط الیکشن کمیشن کیلئے پارلیمنٹ کے سامنے آئندہ چند روز میں دھرنے کی کال دے چکی ہے۔ مسلم لیگ فنکشنل، جماعت اسلامی اور سندھ کی کئی قوم پرست جماعتیں بھی اس دھرنے میں شرکت کا اعلان کرچکی ہیں، جبکہ تحریک انصاف نے اس کال کا پہلے مثبت لیکن بعد میں منفی جواب دیا۔

بابا حیدرزمان بھی دھرنا دیں گے

صوبہ ہزارہ تحریک کے سربراہ بابا حیدر زمان بھی دھرنا دیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہزارہ صوبے کے حوالے سے فوری کمیشن تشکیل دیا جائے، ورنہ 30 جنوری سے وہ بھی پارلیمنٹ کے سا منے دھرنے پر بیٹھ جائیں گے۔

پیر کو نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں کے قیام کی تحریک کی بنیاد صوبہ ہزارہ تحریک نے رکھی لیکن جان بوجھ کر ہزارہ کی عوام کو نظر انداز کر دیا گیا۔

صحافی بھی دھرنے پر

سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ صحافیوں نے بھی دھرنے کی بات کی ہے۔ پیر کو ہی اسلام آباد میں صحافیوں کی تنظیم ’پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ‘ (پی ایف یو جے) کی جانب سے دھرنا دیا گیا۔ صحافیوں نے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران اپنے تحفظ اور ہلاکت یا زخمی ہونے کی صورت میں مالی امداد کا مطالبہ کیا ہے۔