’دولت اسلامیہ سے جنگ، عراق کی ہر طرح سے مدد کی جائے گی‘

پیرس میں منعقدہ اجلاس کے خاتمے پر جاری ہونے والے ایک بیان میں سفارت کاروں نے کہا ہے کہ ’یہ امداد عراقی حکام کو درکار ضروریات کو سامنے رکھ کر، بین الاقوامی قانون کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اور سول سوسائٹی کو خطرے میں ڈالے بغیر کی جانی چاہیئے‘

تقریباً 30 ملکوں نے اس بات کا عہد کیا ہے کہ دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں کے ساتھ لڑائی میں، وہ عراق کی حمایت میں ’تمام ضروری ذرائع‘ استعمال کریں گے، جِن میں فوجی امداد بھی شامل ہے۔

اِس بحران کے سلسلے میں پیرس میں منعقدہ اجلاس کے خاتمے پر جاری ہونے والے ایک بیان میں سفارت کاروں نے کہا ہے کہ ’یہ امداد عراقی حکام کو درکار ضروریات کو سامنے رکھ کر، بین الاقوامی قانون کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اور سول سوسائٹی کو خطرے میں ڈالے بغیر کی جانی چاہیئے‘۔

اجلاس میں تقریباً 30 ملک، اقوام متحدہ، یورپی یونین اور عرب لیگ کے اہل کار شامل تھے۔ یہ دولت اسلامیہ سے نمٹنے کے لیے اتحاد کو تشکیل دینے کی تازہ ترین کوشش تھی، جس نے شمالی اور مغربی عراق کے علاوہ مشرقی شام میں ایک بڑے علاقے پر قبضہ جما لیا ہے۔

فرانسسی صدر، فرانسوان ہولاں نے کہا کہ دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں سے لڑائی کے سلسلے میں ’مزید وقت ضائع نہیں کیا جانا چاہیئے‘۔

اِن مذاکرات سے قبل، امریکی وزیر خارجہ جان کیری مشرقِ وسطیٰ کا دورہ کر چکے ہیں، جس کا مقصد دولت اسلامیہ سے نبردآزما ہونے کے سلسلے میں صدر براک اوباما کے مؤقف کی تائید کا حصول تھا۔

کیری نے کہا کہ اس لڑائی میں شرکت پر آمادہ ملکوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، جس میں متعدد عرب ممالک شامل ہیں جو ضرورت پڑنے پر، فوجی امداد اور فضائی حملے کرنے کی پیش کش کر چکے ہیں۔

اجلاس میں ایران کو مدعو نہیں کیا گیا تھا۔


پیر کے روز امریکہ نے عراق میں دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں سے لڑائی میں ایران کے ساتھ فوجی رابطے کے کسی امکان کو یکسر مسترد کیا۔

ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنئی نے کہا ہے کہ عراق میں تعینات امریکی سفیر نے ایران سے تعاون طلب کیا تھا، لیکن اس درخواست کو اس لیے مسترد کیا گیا، کیونکہ، بقول اُن کے، امریکہ کے ’ہاتھ میلے‘ ہیں۔

عراقی صدر فواد معصوم نے ایسو سی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ یہ ضروری نہیں کہ عرب ملک فضائی حملے کریں۔ اُنھوں نے کہا کہ اُن سے جو جو بات درکار ہے وہ یہ ہے کہ اس اجلاس کے فیصلوں کی پاسداری کی جائے۔

اُنھوں نے دولت اسلامیہ کے گروپ کے خلاف کارروائی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ سبھی کے مفاد میں ہے۔

فرانسسی اہل کاروں نے بتایا ہے کہ پیر کے روز سے اُن کے جنگی جہاز دشمن کے ٹھکانوں کا پتا لگانے کے لیے عراق پر نگرانی کی پروازیں شروع کردیں گے۔