’موسمیاتی ایمرجنسی‘ کا تدارک، لندن کے کالج نے گائے کے گوشت پر پابندی عائد کر دی

فائل

لندن کے ایک کالج نے پیر کے روز کیمپس پر گائے کے گوشت پر بندش عائد کر دی ہے، تاکہ موسمیاتی تبدیلی کے انسداد کی کوششوں میں مدد دی جا سکے۔

اس طرح برطانیہ کا یہ پہلا اعلیٰ تعلیمی ادارہ ہے جس نے یہ قدم اٹھایا ہے۔

آئندہ ماہ سے گولڈ اسمتھ، جو ’یونیورسٹی آف لندن‘ کا حصہ ہے، کیمپس پر کہیں بھی گائے کا گوشت فروخت نہیں کیا جائے گا۔

ساتھ ہی بوتل بند پانی اور ایک بار استعمال کے قابل پلاسٹک کے استعمال پر اضافی محصول لاگو کیا جائے گا، تاکہ اس کے استعمال کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔

’گولڈاسمتھس‘ کے سربراہ، فرینسس کورنر کے بقول، ’’عالمی سطح پر اس بات کی ضرورت کا احساس بڑھتا جا رہا ہے کہ تمام ادارے اپنی ذمہ داریاں سنجیدگی سے نبھائیں، چونکہ موسمیاتی تبدیلی میں تیزی کے رجحان کے خاتمے کے لیے اپنی ذمہ داری کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا‘‘۔

کورنر نے کہا کہ کالج کا عملہ اور طالب علم کاربن کے ذرات کو فوری طور پر کم کرنے کی ضرورت کے کام کو بخوبی سمجھتے ہیں اور اس کام میں مدد دینے میں پر عزم ہیں۔

کالج نے کہا ہے کہ اس اقدام کا مقصد شفاف توانائی کو اختیار کرنا ہےتاکہ کاربن کا کم سے کم استعمال ہو، جس کا مطلب یہ ہوا کہ سال 2025ء تک کاربن کے اخراج کی نسبت اسے ترک کرنے کی کاوشوں کو ترجیح دی جا سکے۔

اقوام متحدہ کے خوراک اور زراعت کے ادارے کے مطابق، گرین ہاؤس گیس کے اخراج کے حوالے سے مال مویشی پالنا کاربن ڈائی آکسائیڈ کا خاص باعث بنتا ہے۔ اس کام میں دنیا کے صاف پانی کا دسواں حصہ خرچ ہوتا ہے، جب کہ ان کے سبب جنگل کی کٹائی اور سزے کو بڑے پیمانے پر قربان کرنا پڑتا ہے۔