یمن: عالمی امدادی گروہوں کا ’بھوک اور ہلاکت‘ کا انتباہ

فائل

یمن کے حوثی باغیوں نے جب گذشتہ اختتام ہفتہ بیلسٹک میزائل داغا، جسے ریاض کے قریب ناکام بنایا گیا، اتحاد نے تمام بندرگاہ اور امدادی جہاز روک دیے ہیں۔ سعودی عرب نے اس حملے کا الزام ایران پر دیا ہے، جو حوثیوں کا حامی ہے۔ تاہم، اُنھیں اسلحہ فراہم کرنے کی تردید کی ہے

اقوام متحدہ اور 20 سے زائد امدادی گروپوں نے جمعرات کو کہا ہے کہ سعودی قیادت والا اتحاد یمن کے لڑائی کے شکار ملک کی ناکہ بندی مزید بڑھا رہا ہے، جس کے نتیجے میں لاکھوں لوگوں کو ’’بھوک اور ہلاکت‘‘ کا سامنا ہو سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد دینے والے ادارے کے سربراہ نے ایک روز قبل متنبہ کیا ہے کہ جب تک اتحاد اپنی ناکہ بندی ختم نہیں کرتا، یمن کو ’’کئی عشروں میں دنیا کا سب سے بڑا قحط درپیش ہوگا، جس میں لاکھوں افراد مر سکتے ہیں‘‘۔

یمن کے حوثی باغیوں نے جب گذشتہ اختتام ہفتہ بیلسٹک میزائل داغا، جسے ریاض کے قریب ناکام بنایا گیا، اتحاد نے تمام بندرگاہ اور امدادی جہاز روک دیے ہیں۔ سعودی عرب نے اس حملے کا الزام ایران پر دیا ہے، جو حوثیوں کا حامی ہے۔ تاہم، اُنھیں اسلحہ فراہم کرنے کی تردید کی ہے۔

امریکہ نے بھی ایران پر حوثیوں کو بیلسٹک میزائل فراہم کرنے کا الزام لگایا ہے، جن الزامات کی باغیوں نے تردید کی ہے، جن کا یہ کہنا ہے کہ ہفتے کو استعمال ہونے والا میزائل اُنھوں نے خود ہی تشکیل دیا تھا۔

اتحاد، جو یمن کی بین الاقوامی تسلیم شدہ حکومت کا حامی ہے، مارچ 2015ء سے باغیوں کے ساتھ نبرد آزما ہے۔ حوثی شمالی یمن کے زیادہ تر علاقے پر قابض ہیں، جس میں دارالحکومت، صنعا بھی شامل ہے۔

یمن کی تقریباً دو تہائی آبادی کا انحصار درآمد کی گئی رسد پر ہے۔ یہ بات امدادی گروپوں نے بتائی ہے، جس میں ’کیئر‘، ’سیو دی چلڈرین‘ اور ’اسلامک رلیف‘ شامل ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ دو کروڑ افراد کو انسانی ہمدردی کی امداد کی ضرورت ہے، جس میں سے 70 لاکھ کو ’’قحط جیسی‘‘ صورت حال کا سامنا ہے۔ اگلے چھ ہفتے کے اندر غذائی رسد ختم ہوجائے گی، جب کہ ’ویکسین‘ صرف ایک ماہ تک کے لیے باقی ہیں۔

اُنھوں نے تمام ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں کو فوری طور پر کھولنے پر زور دیا ہے۔