رسائی کے لنکس

سعودی عرب نے یمن کی سرحدی ناکہ بندی کر دی


یمنی خواتین ایک اسٹور کے باہر گیس کے سیلنڈر بھروانے کے انتظار میں بیٹھی ہیں۔

سعودی عرب نے کہا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ اس کے روایتی حریف ایران نے اس وقت جنگ کی ایک کارروائی کا ارتکاب کیا ہو جب یمن میں ایرانی پشت پناہی کے حامل ہوثی باغیوں نے ریاض پر ایک میزائل داغا تھا۔

ہفتے کے روز سعودیوں نے شاہ خالد انٹر نیشنل ایئر پورٹ پر داغے جانے والے ایک میزائل کے حملے کو ناکام بنایا تھا ۔ پیر کے روز سعودی قیادت کے اتحاد نے کہا کہ وہ میزائل کے حملے کے رد عمل میں یمن جانے والے خشکی سمندری اور فضائی ذریعے عارضی طور پر بند کر رہا ہے۔

ایک تاجر طارق القدسی کا کہنا تھا کہ ہم اس فیصلے پر حیران تھے جس نے بیرونی دنیا سے ہمیں جوڑنے والی تمام سرحدی گذرگاہ اور داخلی مراکز کو جو ابھی تک کھلے ہوئے تھے بند اور باقی یمنیوں کو بڑی کامیابی سے سیاست کے ذریعے ہلاک کر دیا ہے ۔ سیاست دان سیا سی کھیل کھیلتے ہیں اور لوگ نقصان اٹھاتے ہیں ۔اس فیصلے نے قیمتوں میں اضافے کے باعث اندرون ملک ہمارے کام کو متاثر کیا ہے کیوں کہ اشیائے صرف محدود تعداد میں دستیاب ہیں اور وہ جلد ختم ہو جاتی ہیں ۔ ہم بیرونی دنیا سے رابطہ نہیں کر سکتے کیوں کہ ہم مکمل طور پر الگ تھلگ ہو کر رہے گئے ہیں۔

اگرچہ عہدے دار کہتے ہیں کہ یہ بندشیں عارضی ہیں تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ کتنا عرصہ برقرار رہیں گی۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اسے اس بارے میں تشویش ہے کہ مشکلات میں گھرے یمنیوں کو اشد ضرورت کی خوراک اور ادویات کیسے پہنچائی جائیں۔

ہوثی باغیوں نے 2014 میں یمن کے دار الحکومت صنعا پر قبضہ کر لیا تھا اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ صدر عبد و رابو منصور ہادی کو ریاض فرار ہونے پر مجبور کر دیا تھا۔ وہ بعد میں جنوبی یمنی ساحلی شہر عدن میں اپنی حکومت کی تشکیل کے لیے واپس آ گئے تھے ۔

ہوثیوں کو ملک سے باہر نکالنے کے مقصد سے کیے گئے سعودی قیادت کے فضائی حملوں نے ارد گرد کے تمام علاقوں کو تباہ کر دیا ہے اور 8ہزار سے ز یادہ شہریوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG