موصل میں شہری آبادی کا تحفظ اولین ترجیح ہونا چاہیئے: گوئٹرس

بغداد

بغداد میں آمد کے فوری بعد، گوئٹرس نے صدر فواد معصوم، پارلیمان کے اسپیکر سلیم الجبوری اور وزیر خارجہ ابراہیم الجعفری سے ملاقات کی، جس دوران ’’سرزمین پر انسانی ضروریات‘‘ کی صورت حال کو زیر بحث لایا گیا، ایسے میں جب داعش کے شدت پسندوں کے خلاف اُن کے اِس مضبوط ٹھکانے کو ہدف بنایا جا رہا ہے

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل، اینٹونیو گوئٹرس، جو اِن دِنوں دورہٴ عراق پر ہیں، کہا ہے کہ موصل کی شہری آبادی کا تحفظ ’’اولین ترجیح‘‘ کا معاملہ ہونا چاہیئے۔

بغداد میں آمد کے فوری بعد، گوئٹرس نے صدر فواد معصوم، پارلیمان کے اسپیکر سلیم الجبوری اور وزیر خارجہ ابراہیم الجعفری سے ملاقات کی، جس دوران ’’سرزمین پر انسانی ضروریات‘‘ کی صورت حال کو زیر بحث لایا گیا، ایسے میں جب داعش کے شدت پسندوں کے خلاف اُن کے اِس مضبوط ٹھکانے کو ہدف بنایا جا رہا ہے۔

ملک کے شمال کی جانب سفر کرنے سے پہلے، جن میں خود حکمرانی والا کُرد خطہ بھی شامل ہے، گوئیٹرس وزیر اعظم حیدر العبادی سے ملاقات کرنے والے ہیں۔

خیال کیا جاتا ہے کہ موصل کے علاقوں میں، جہاں داعش کا قبضہ ہے، اب بھی 50 لاکھ سے زیادہ شہری آبادی موجود ہے، جن میں سے زیادہ تر کو داعش انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتا ہے، ایسے میں جوں جوں عراقی افواج پیش قدمی کرنے لگتی ہیں۔

شہری اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کام کرنے والے گروپ اور مبصر اہل کاروں نے متنبہ کیا ہے کہ فضائی کارروائی اور بھاری توپ خانے کے استعمال کا مطالبہ تو کیا جا رہا ہے۔ لیکن، اس بات کا امکان ہے کہ زیادہ شہری ہلاکتیں واقع ہوسکتی ہیں۔

ایک اعلیٰ امریکی کمانڈر نے کہا ہے کہ داعش کے لڑاکے موصل میں شہری آبادی کو اُن عمارتوں کی جانب دھکیل رہے ہیں جہاں بارودی سرنگیں بچھائی گئی ہیں، اور جو دھماکے سے پھٹ سکتی ہیں۔

ادھر، امریکہ اِن رپورٹوں کی تفتیش کر رہا ہے جن میں بتایا گیا ہے کہ موصل میں داعش کے خلاف فضائی کارروائی کے دوران، تقریباً 100 شہری ہلاک ہوئے، جو تباہ ہونے والی عمارت میں موجود تھے۔