ننگرہار: امریکی اور افغان افواج کا داعش کے مضبوط ٹھکانے پر حملہ

فائل

ضلع اچین کے گورنر، اسماعیل شنواری نے 'وائس آف امریکہ' کو بتایا کہ ''افغان کمانڈو افواج، اور ساتھ ہی پولیس اور نیٹو افواج نے اس علاقے میں کارروائی کا آغاز کر رکھا ہے''۔ مشرقی صوبہ ننگرہار میں داعش کے درجنوں دہشت گرد پہاڑی علاقے کی جانب بھاگ نکلے ہیں

امریکہ اور افغانستان کی خصوصی افواج نے مشرقی افغانستان میں داعش کے بہت سے محفوظ ٹھکانوں سے دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں کا صفایا کر دیا ہے، جس پر اُس نے 2015ء سے قبضہ جما رکھا تھا۔ یہ بات صوبائی اہل کاروں اور مقامی مکینوں نے 'وائس آف امریکہ' کو بتائی ہے۔

کچھ دنوں سے 'وائس آف امریکہ' کی افغان سروس کا ایک نمائندہ افغان افواج کے ہمراہ اچین کے دور دراز علاقے کا سفر کر رہا ہے۔

اُنھوں نے بتایا ہے کہ یوں لگتا ہے کہ داعش کے ہاتھوں ایک کے بعد دوسرا گائوں تباہ ہو چکا ہے۔ مشرقی صوبہ ننگرہار میں گذشہ 10 دنوں سے جاری کارروائی کے دوران، اُنھوں نے داعش کے درجنوں لڑاکوں کو ہلاک کر دیا ہے، جس دہشت گرد گروپ نے عمارتیں مسمار کردی ہیں، بنیادی شہری سہولیات کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور مکینوں کو صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔

مقامی لوگوں نے 'وائس آف امریکہ' کو بتایا ہے کہ 200 سے زائد گھروں کو مسمار کر دیا گیا ہے، جب کہ محفوظ مقامات کی تلاش میں سینکڑوں خاندان اپنے دیہات چھوڑ کر بھاگ نکلے ہیں۔

اچین کے ایک مکین، محمد انور نے بتایا کہ ''اپنی جان بچانے کے لیے ہم نے اپنا گھر بار چھوڑ دیا۔ ہمارے گھر مکمل طور پر تباہ ہوچکے ہیں، کوئی چیز باقی نہیں بچی''۔

مقامی باشندوں نے بتایا ہے کہ اُنھیں اس بات کا ڈر ہو چلا تھا کہ افغان افواج داعش سے علاقہ کبھی خالی نہیں کرا پائیں گی۔

زیادہ تر افغانوں کی طرح نام کا ایک حصہ ظاہر کرتے ہوئے، ایک اور مقامی باشندے، رحیم اللہ نے بتایا کہ ''اسکول، مارکیٹ، ہر چیز تباہ ہو چکی ہے، لیکن پھر بھی ہمیں اس بات کی امید ہے کہ ہر چیز کی تعمیرنو ہوگی، تاکہ لوگ واپس آسکیں''۔

لیکن، اُنھوں نے کہا کہ ''ہم بہت خوش ہیں کہ سرکاری افواج پہنچ چکی ہیں۔ ہم اپنے ملک میں امن کے خواہاں ہیں''۔

ایک گائوں سے باہر، 'وائس آف امریکہ' کے رپورٹر نے ایک کھڈ کا پتا لگایا، جس کے لیے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس میں داعش کے لڑاکوں کی لاشیں ہیں۔

صوبائی اہل کاروں نے کہا ہے کہ جاری فضائی اور بَری کارروائیوں کے دوران 120 سے زائد شدت پسند ہلاک ہو چکے ہیں، جس لڑائی کو اب دوسرا ہفتہ ہونے کو ہے۔

ضلع اچین کے گورنر، اسماعیل شنواری نے 'وائس آف امریکہ' کو بتایا کہ ''افغان کمانڈو افواج، اور ساتھ ہی پولیس اور نیٹو افواج نے اس علاقے میں کارروائی کا آغاز کر رکھا ہے''۔

مشرقی صوبہ ننگرہار میں داعش کے درجنوں دہشت گرد پہاڑی علاقے کی جانب بھاگ نکلے ہیں، جس کی سرحدیں پاکستان کے ساتھ ملتی ہیں۔

انور نے کہا کہ ''وہ (داعش کے شدت پسند) اس علاقے میں موجود ہیں۔ افغان افواج آچکی ہیں اور شدت پسند ہمارے علاقوں سے بھاگ نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں''۔

اچین میں داعش کے خلاف کارروائی امریکہ اور افغان فوج کی مشترکہ کوشش کا ایک حصہ ہے، جس کا مقصد افغانستان کو داعش سے پاک کرنا ہے۔