امریکی رہنماؤں نے برطانیہ سے آزادی کا کیوں سوچا

  • ندیم یعقوب

چار جولائی کو امریکہ کا یوم آزادی منایا جاتا ہے۔امریکہ کو آزاد ہوئے سوا دو سو سال سے زیادہ ہو چکے ہیں۔تاریخی لحاظ سے پاکستان اور امریکہ میں ایک چیز مشترک ہےاور وہ یہ کہ آزادی سے پہلے دونوں برطانیہ کی نو آبادیات تھیں۔ امریکہ کے بانیوں نے یہ آزادی ایک لمبی تحریک اور طویل جنگ آزادی کے بعد حاصل کی ۔ امریکہ نے برطانیہ کے خلاف جنگ کا آغاز کیوں کیا تھا اور وہ اس سے آزاد کیوں ہوا؟ اور اس جدوجہد میں امریکی راہنماؤں کا کردار کیا تھا۔ یہ سوال یوم آزادی کے موقع پر اکثر امریکیوں کے لیے بڑی اہمیت رکھتا ہے۔

جولائی میں امریکہ کا یوم آزادی منایا جاتا ہے اور اگست میں پاکستان کا ۔ایک دوسرے سے ہزاروں میل دور پیش آنے والے ان واقعات میں تقریباً پونے دوسو سال کا فاصلہ ہے۔ اٹھارویں صدی میں برطانیہ نے امریکی نو آبادیات پر ٹیکس عائد کئے جو مقامی لوگوں پر گراں گزرے جس کی وجہ سے برطانوی تسلط کے خلاف بغاوت نے جنم لیا اور چار جولائی 1776 ءکو 13نو آبادیوں کے نمائندوں نے برطانیہ سے آزادی کا اعلان کر دیا۔

آزادی کی تحریک تو 1760 ءاور 1770ءکی دہائیوں میں اس وقت شروع ہوئی جب برطانیہ نے اپنی نوآبادیوں پر کئی ٹیکس لگانے شروع کئے جن کے خلاف مقامی آبادیوں نے مزاحمت کی۔ کیونکہ ان کا موقف تھا کہ حکومت میں نمائندگی کے بغیر ٹیکس جائز نہیں۔ 1775ءمیں برطانیہ نے لیکسنٹن میں اسلحے کے ڈپو پر قبضے کے لئے دستے بھیجےجس کی مقامی آبادی نے مزاحمت کی اور ان کے ساتھ جھڑپوں کے بعد چار جولائی 1776کو آزادی کا اعلان کر دیا گیا۔

امریکہ کے بانی راہنماؤں نے آزاد ملک کے لئے جو خواب دیکھے تھے وہ کیا تھے اورکیا موجودہ دور کا امریکہ ان خوابوں اور نظریات کی عکاسی کرتا ہے ؟ ان سوالات کے بارے میں آج بھی امریکہ میں بحث جاری ہے۔ مگر جانز ہاپکنز یونیورسٹی سے منسلک سیاسی امور کے تجزیہ نگار والٹر اینڈر سن کہتے ہیں کہ امریکہ کی بنیادی روح وہی ہے جس کا تصور بانی راہنماؤں نے دیا تھا۔

http://www.youtube.com/embed/IYj5SaBpr1c

کچھ لوگوں جیسے ٹی پارٹی کے حامیوں کا خیال ہے کہ بانی راہنماؤں کے نظریات سے انحراف کیا جارہا ہے ۔ جیسے چھوٹی حکومت، داخلی امور پر توجہ اور بیرون ملک کم وابستگی۔ مگر دوسری طرف لوگوں کا خیال ہے کہ بانیوں نے ایسے اصول وضح کئے جن کو بروئے کار لاتے ہوئے ہم ان کے خوابوں کی تعبیر کر سکتے ہیں۔ امریکہ کے قیام کی بنیادی روح آج بھی وہی ہے ۔ اچھے مواقع ، آزادی اظہار رائے، اچھی زندگی کی جدوجہد۔ معاشی بدحالی کی وجہ سے کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ امریکہ کی سمت درست نہیں مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ معاشی بہتری ہو نہیں سکتی ۔

ملک کے بانی رہنماؤں نے نئے ملک کو چلانے کے لئے ایک سیاسی اور حکومتی نظام تشکیل دیا جو آج بھی کم و بیش اسی حالت میں موجود ہےاور جسے باقی دنیا میں بھی بہت پذیرائی ملی ہے۔واشنگٹن میں قدامت پسند تھنک ٹینک دی ہیریٹیج سے منسلک تجزیہ نگار ڈیوڈ آزریڈکہتے ہیں کہ امریکہ باقی دنیا سے ٕمختلف ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ امریکہ دوسروں سے مختلف ہے۔ امریکہ اپنے نظام کو ایک عالمی نظریہ سمجھتا ہے جو انسانی برابری پر مبنی ہے۔ جس کا مطلب ہے امریکہ کا کردار باقی ملکوں سے مختلف ہوگا۔ تمام ملک اپنے دفاع اور مفادات کے لئے کام کرتے ہیں مگر امریکہ پر زیادہ بوجھ ہے۔ اس پر لازم ہے کہ وہ دوسروں کی آزادی کے لئے کھڑا ہو۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ امریکہ کو ہر مظلوم قوم کے لیے عسکری قوت استعمال کرنی ہوگی مگر اسے اخلاقی معاملات پر درست موقف اختیار کرنا ا ور آزادی کے لئے آواز اٹھانا ہوگی۔

امریکی تاریخ دان سمجھتے ہیں پچھلے چند برسوں سے امریکہ کے جنگوں میں ملوث ہونے اور ملک میں معاشی بحران کے پیش نظر بانی راہنماؤں کے خوابوں اور نظریات کے حوالے سے جاری بحث ایک مثبت عمل ہے جو امریکی قوم کے لئے سود مند ہوگی ۔