صدارتی انتخاب کے دوران ٹرمپ، روس گٹھ جوڑ کا ثبوت نہیں ملا: ری پبلکن رہنما

وائٹ ہاؤس (فائل فوٹو)

ایک سال کی تفتیش کے بعد، ٹیکساس سے ری پبلیکن پارٹی کے رُکن، مائیک کوناوے نے پیر کے روز اعلان کیا کہ کمیٹی نے عینی شاہدین کے انٹرویو کا سلسلہ بند کر دیا ہے، اور یہ کہ یہ رپورٹ منگل کے روز ڈیموکریٹس کو دی جائے گی

ہاؤس انٹیلی جنس کمیٹی نے ایک رپورٹ کا مسودہ مکمل کرلیا ہے جس میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ صدارتی مہم کے دوران ڈونالڈ ٹرمپ اور روس کے درمیان کسی قسم کا گٹھ جوڑ یا رابطہ نہیں تھا، جس نتیجے پر وائٹ ہاؤس تو خوش ہوگا لیکن ڈیموکریٹس برہم ہوں گے۔

ایک سال کی تفتیش کے بعد، ٹیکساس سے ری پبلیکن پارٹی کے رُکن، مائیک کوناوے نے پیر کے روز اعلان کیا کہ کمیٹی نے عینی شاہدین کے انٹرویو کا سلسلہ بند کر دیا ہے، اور یہ کہ یہ رپورٹ منگل کے روز ڈیموکریٹس کو دی جائے گی۔

کوناوے کا تعلق ری پبلیکن پارٹی سے ہے اور وہ ایوانِ نمائندگان کی چھان بین کمیٹی کے سرکردہ رکن ہیں، جب کہ 2016ء کے انتخابات میں روسی مداخلت کے معاملے پر متعدد کمیٹیاں تفتیش کر رہی ہیں۔

کوناوے نے رپورٹ کے اخذ کردہ کئی نتائج کا جائزہ پیش کیا۔ کوناوے نے پیر کے روز اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ’’ہمیں کسی گٹھ جوڑ کا کوئی ثبوت نہیں ملا‘‘۔ اس کا یہ مطلب ہوا کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے وہ بہت زیادہ جاسوسی ناول پڑھتے ہیں۔

جب تک ڈیموکریٹ اس رپورٹ کا جائزہ نہیں لیتےاور انٹیلی جنس کمیٹی یہ فیصلہ نہیں کرتی کہ کون سی اطلاعات عام کی جائیں، تب تک یہ عام لوگوں کو میسر نہیں ہوگی۔ اس عمل میں ہفتے لگ سکتے ہیں۔ متوقع طور پر ڈیموکریٹ ایک علیحدہ رپورٹ جاری کریں گے، جس کے نتائج بہت ہی مختلف ہو سکتے ہیں۔