لیبیا کے جنگی اخراجات میں کٹوتیاں، امریکی کانگریس میں بل زیر غور

لیبیا کے جنگی اخراجات میں کٹوتیاں، امریکی کانگریس میں بل زیر غور

امریکی ایوان نمائندگان میں، جس میں اکثریت ری پبلیکنز کی ہے، جمعے کے روز دوقراردادوں پر ووٹنگ ہورہی ہے جن میں لیبیا میں امریکی فوجی کردار کو، جس پر حالیہ دنوں میں کانگریس کے کئی ارکان اپنی برہمی کا اظہار کرتے رہے ہیں، موضوع بنایا گیا ہے۔

ایوان نمائندگان کے قانون ساز دو اہم قراردادوں پر غور کررہے ہیں جن میں سے ایک میں نیٹو کی زیر قیادت لیبیا کے معمرقذافی کی فورسز کے خلاف فوجی کارروائیوں کے لیے امریکی فنڈز میں کٹوتی کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔

قرارداد کے تحت ، فنڈز کی کٹوتی کے بعد امریکی فورسز لیبیا کے خلاف غیر جنگی کارروائیوں میں بدستور شامل رہیں گی جن میں تلاش اور امدادی کوششیں، انٹیلی جنس معلومات ، نگرانی اور ایندھن وغیرہ شامل ہیں۔

ڈیموکریٹک اور ری پبلیکنز، دونوں پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے کئی ارکان صدر براک اوباما سے اس لیے برہم ہیں کہ انہوں نےلیبیا کے تنازع میں امریکہ کو شریک کرنے کے لیے کانگریس سے منظوری نہیں لی۔

کئی قانون سازوں یہ الزام بھی لگاتے ہیں کہ صدر اوباما نے 1973ء کے جنگ سے متعلق اختیارات کی قرارداد کی خلاف ورزی کی ہے، جس کے تحت کسی جنگی تنازع میں امریکی فورسز کی شرکت کانگریس کی منظوری سے مشروط ہے۔

جب کہ صدر اوباما کا کہناہے کہ لیبیا کا معاملہ جنگ کی صوت حال سے تعلق نہیں رکھتا، اس لیے انہیں کانگریس سے اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے جمعرات کے روز اپنی ذاتی حیثیت میں ڈیموکریٹ قانون سازوں سے ملاقات کی تاکہ لیبیا مشن کے سلسلے میں ان کی حمایت حاصل کی جاسکے۔