کیا امریکہ اقوام متحدہ کے لیے فنڈز میں کمی کردے گا

کیا امریکہ اقوام متحدہ کے لیے فنڈز میں کمی کردے گا

وہائٹ ہاؤس کے بجٹ سے متعلق شعبے کے مطابق 2010ءمیں امریکہ نے اقوام متحدہ کے لیے تقریبا 7.7 ارب کے لگ بھگ رقم مختص کی تھی۔ اقوام متحدہ کے تمام ممبر ملکوں کو اس تنظیم کی کارروائیوں کےلیے اپنی سالانہ فی کس آمدنی کے لحاظ سے لازمی طور پر رقوم مختص کرنی ہوتی ہیں۔لیکن موجودہ اقتصادی مسائل کے پیش نظر امریکہ میں مختلف سرکاری شعبوں میں کٹوتیوں کی بات کی جارہی ہے۔

امریکی ایوان نمائندگان کے بعض ریپبلکن اراکین نے ایک ایسا منصوبہ بھی پیش کیا ہے جس کے مطابق امریکہ کی جانب سے اقوام متحدہ کورقوم کی فراہمی مشروط کرنے سے وسائل کا بہترین استعمال ممکن بنایا جا ئے اور تنظیم کے موجودہ بنیادی ڈھانچے کی اصلاح بھی کی جاسکے ، جوریپبلکن اراکین کے مطابق عالمی قوانین کا احترام نہ کرنے والے ملکوں کو اقوام متحدہ میں شامل آزاد جمہوریتوں کے خلاف متحد ہونے کا موقعہ دیتا ہے ۔

http://www.youtube.com/embed/P4rpe7iePBw

لیکن اوباما انتظامیہ نے اقوام متحدہ کو دی جانے والی رقوم میں کٹوتیوں کی تجاویز کی مذمت کی ہے۔ بین الاقوامی اداروں کےلیے امریکی نائب وزیر ڈاکٹر ایستھر بریمر کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ سے لا تعلقی اختیار کرنے سےعالمی معاملات میں امریکہ کا اثرکم ہو سکتاہے۔ وہ کہتی ہیں کہ اگر ہم دوسروں کے تعاون کے ساتھ یہ کام کریں تو ہمارے اتنے وسائل خرچ نہیں ہوں گے۔

ڈاکٹر بریمر کا کہنا ہے کہ امریکہ اپنے عالمی اتحادیوں کے ساتھ مشترکہ مسائل پر مل کر کام کرتا رہے گا۔

اقوام متحدہ کے بجٹ کےلیے رقوم مختص کرنے کے علاوہ امریکہ مختلف ملکوں میں اقوام متحدہ کے امن مشنز کے اخراجات کا تقریبا 27 فی صد حصہ پورا کرتا ہے۔ اقوام متحدہ کے لیے امریکہ کی ایک سابق سفیر ننسی سوڈربرگ کہتی ہیں کہ مسائل کے باوجود اقوام متحدہ کا یہ شعبہ امن مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔

ان کا کہناہے کہ اس ادارے کے نظریات ، وسائل اوران کے استعمال سے بہت سے مسائل منسلک ہیں۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزی بھی جاری ہے ۔ میرا خیال ہے کہ اقوام متحدہ کی قیادت ان مسائل کا حل تلاش کرنے کی اہمیت کو سمجھتی ہے اور اسے امریکہ کا بھر پور تعاون بھی حاصل ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ کامیابیوں کو کبھی سراہا نہیں جاتا، لیکن ہر روز اقوام متحدہ کےامن مشن میں شریک ایک لاکھ فوجی دنیا بھر میں لوگوں کی زندگیاں بچانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔

اقوام متحدہ کو بڑے پیمانے پر وسائل فراہم کرنے والوں میں یورپی یونین کے رکن ملک بھی شامل ہیں۔ لیکن یہاں بھی اقتصادی مسائل کی وجہ سے اقوام متحدہ کو فراہم کی جانےو الی رقوم میں کٹوتیاں تجویز کی جا رہی ہیں۔ اس سال برطانیہ نے اقوام متحدہ کے مختلف اداروں کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد چار ایسے اداروں کے لیے امداد ختم کرنے کا فیصلہ کیا جن کی کارروائیوں کے نتائج توقعات سے کم تھے۔ ماہرین کو فکر ہے کہ یورپی یونین میں شامل دوسرے ملک بھی اقوام متحدہ کے لیے اس سے ملتی جلتی پالیسی اپنائیں گے۔

سوڈربرگ شمالی افریقہ اور مشرق وسطی میں جمہوریت کےلیے چلائی جانے والی تحریک کی مثال دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ اقوام متحدہ کے رکن ملکوں میں جمہوریت پسند ملکوں کی تعداد میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔ اور انہیں امید ہے کہ اس کے نتیجے میں اقوام متحدہ کے بنیادی ڈھانچے میں وہ تبدیلیاں بھی آتی رہیں گی جس کی مدد سے نہ صرف وسائل کے درست استعمال، بلکہ فیصلہ سازی سے منسلک مسائل حل ہوجائیں گے ۔