فیصل آباد: توہینِ مذہب کے الزام میں خاتون گرفتار، مقدمہ درج

پاکستان کے شہر فیصل آباد میں توہینِ مذہب کے الزام میں خاتون اور اس کے شوہر کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

سوشل میڈیا پر جمعے کو ایک خاتون کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں وہ مبینہ طور پر پیغمبر ہونے کا دعویٰ کر رہی ہے۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس حرکت میں آئی اور خاتون کو گرفتار کر کے توہینِ مذہب کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔

گرفتار ہونے والی خاتون نے پولیس کو دیے گئے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اُن کی لاہور میں مقیم بہن کو خواب میں بشارت ہوتی ہے۔

خاتون کے اس دعوے کے بعد لوگوں کی بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر جمع ہو گئی اور نعرہ بازی شروع کر دی، اس موقع پر مشتعل مظاہرین نے پتھراؤ بھی کیا۔

واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور صورتِ حال کو قابو میں کرنے کی کوشش کی۔ فیصل آباد کے سٹی پولیس افسر ناصر علی رضوی بتاتے ہیں کہ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے خاتون اور اُس کے شوہر کو حراست میں لے لیا ہے۔

SEE ALSO: مشال خان کی چھٹی برسی؛ توہینِ مذہب کے جھوٹے الزامات کی شکایات برقرار


وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ خاتون کو قانون کے مطابق سزا دلوائی جائے گی۔ اُن کا کہنا تھا کہ پولیس نے اس خاتون کے ہمراہ دو دیگر افراد کو بھی حراست میں لیا ہے۔

سی پی او فیصل آباد نے کہا کہ پولیس اطلاع ملتے ہی موقع پر پہنچی اور صورتِ حال کی سنگینی کا بھانپتے ہوئے کارروائی شروع کر دی۔ اُن کا کہنا تھا کہ پولیس نے بھاری نفری کی موجودگی میں مبینہ طور پر توہینِ مذہب کا دعوٰی کرنے والی خاتون اور اُس کے شوہر کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے اور کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

واضح رہے پاکستانی قوانین کے مطابق توہینِ مذہب کی زیادہ سے زیادہ سزا پھانسی ہے۔ اگر مذکوہ خاتون کا مبینہ جرم ثابت ہو گیا، تو ملکی قوانین کے مطابق اِسے سزائے موت سنائی جا سکتی ہے۔

انسانی حقوق کی ملکی اور بین الاقوامی تنظیمیں پاکستان کے توہینِ مذہب کے قوانین پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتی رہتی ہے۔ عمومی طور پر توہینِ مذہب کے الزامات ذاتی دشمنی اور اقلیتوں کے خلاف بھی استعمال ہوتے رہتے ہیں جس میں مشتعل ہجوم کے ہاتھوں ملزمان کی ہلاکت کے واقعات بھی ہوتے رہتے ہیں۔