رسائی کے لنکس

logo-print

بلاگر کی ہلاکت پر ایران سے وضاحت کا مطالبہ


ایرانی بلاگر ستار بہشتی

35 سالہ ستار بہشتی کو اکتوبر کے آخر میں اپنے گھر سے گرفتار کیا گیاتھا اور بدھ کے روز اس کے خاندان سے کہا گیا کہ تہران کے ایک حراستی مرکز میں اس کی نعش پڑی ہے جسے وہ لے جائیں۔

فرانس اور برطانیہ نے ایران سے حکومت مخالف ایک بلاگر کی حراست کے دوران مبینہ ہلاکت پر وضاحت طلب کی ہے جس کے بارے میں انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہناہے کہ اسے تشدد کانشانہ بنایا گیاتھا۔

انسانی حقوق کے کارکنوں نے بتایا کہ 35 سالہ ستار بہشتی کو اکتوبر کے آخر میں اپنے گھر سے گرفتار کیا گیاتھا اور بدھ کے روز اس کے خاندان سے کہا گیا کہ تہران کے ایک حراستی مرکز میں اس کی نعش پڑی ہے جسے وہ لے جائیں۔

اپنی گرفتاری سے پہلے انٹرنیٹ پر اپنے آخری بلاگ میں بہشتی نے لکھا تھا کہ سیکیورٹی اداروں نے دھمکی دی ہے کہ اگر اس نے اپنی زبان بند نہ کی تو اس کی ماں کو جلد ہی ماتمی لباس پہننا پڑے گا۔

فرانس اور برطانیہ کے عہدے داروں کا کہناہے کہ انہیں بہشتی کی ہلاکت پرصدمہ ہوا ہے۔

برطانیہ کے دفتر خارجہ نے کہاہے کہ یہ ایران میں اظہار کی آزادیاں کچلنے کا ایک اور واقعہ ہے۔

ایران کے عہدے داروں نے یہ نہیں بتایا کہ حراست کے دوران بہشتی کی ہلاکت کیسے ہوئی۔ بہشتی کی بہن فاطمہ نے وائس آف امریکہ کی فارسی سروس کو بتایا کہ اس کا بھائی کسی بیماری میں مبتلا نہیں تھا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں ایمنسٹی انٹرنیشنل اور رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز نے بھی دوران حراست بہشتی کی ہلاکت کی وجوہات جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
XS
SM
MD
LG