رسائی کے لنکس

logo-print

شام میں حزب مخالف کی مدد کے لیے کانگریس سے 50 کروڑ کا مطالبہ


ایک عہدیدار کے مطابق اس رقم کو شام کے عوام کے تحفظ اور باغیوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے بھی استعمال کیا جائے گا۔

وائٹ ہاؤس نے شام میں حزب مخالف کے معتدل مسلح لوگوں کو تربیت اور ساز و سامان کی فراہمی کے لیے کانگریس سے 50 کروڑ ڈالر کا مطالبہ کیا ہے۔

قومی سلامتی کونسل کی ترجمان کیٹلن ہیڈن کا کہنا تھا کہ اس رقم کو شام کے عوام کے تحفظ، باغیوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں صورتحال کو معمول پر لانے اور دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے بھی استعمال کیا جائے گا۔

ہیڈن کا کہنا تھا کہ چونکہ شام کے بحران کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اس لیے یہ رقم شام کے لوگوں کو بشار الاسد کی حکومت کے حملوں سے دفاع میں مدد کی جانب ایک اور قدم ہے۔

گزشتہ ماہ ویسٹ پوائنٹ ملٹری اکیڈمی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر براک اوباما نے بتایا تھا کہ امریکہ کو شام میں افراتفری کی صورتحال میں وہاں محفوظ پناہ گاہیں تلاش کرنے والے انتہا پسندوں کو پیچھے دھکیلنا ہو گا۔

پڑوسی ملک عراق میں سنی شدت پسندوں کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں میں شام کے سنی باغیوں کا بھی عمل دخل ہے۔

دولت اسلامیہ فی عراق ولشام کے جنگجوؤں نے رواں ماہ کے اوائل سے عراق کے شمال اور مغرب میں مختلف علاقوں پر قبضہ کرنے کے بعد دارالحکومت بغداد کی طرف پیش قدمی شروع کی تھی۔

یہ شدت پسند گروپ عراق اور شام کی درمیان سرحد پر واقع ایک علاقے پر بھی قبضہ کر چکا ہے جس کے بعد ان لوگوں کی سرحد کے آر پار آزادانہ نقل و حرکت بھی جاری ہے۔

امریکہ عراق میں سنی شدت پسندوں کے خلاف لڑنے والی عراقی فورسز کی رہنمائی اور مشاورت کے لیے فوجی مشیروں کی ایک ٹیم عراق بھیج چکا ہے جب کہ آئندہ چند دنوں میں دوسری ٹیم بھی عراق پہنچ جائے گی۔

XS
SM
MD
LG