رسائی کے لنکس

logo-print

اوباما، نیتن یاہو ملاقات: سکیورٹی، مشرق وسطیٰ کشیدگی سرفہرست


اوباما نے ’اسرائیل کی سلامتی کو اپنی خارجہ پالیسی کا اولین مقصد‘ قرار دیتے ہوئے، کہا کہ وہ اور نیتن یاہو اس بات کو زیر غور لائیں گے آیا داعش، حزب اللہ اور دیگر باغی گروپوں کی سرگرمیوں کا کس طرح کھل کر مقابلہ کیا جائے، جو ’دہشت گرد سرگرمیوں میں مشغول ہیں‘

امریکی صدر براک اوباما اور اسرائیلی وزیر اعظم بینجامن نیتن یاہو نے پیر کے روز واشنگٹن میں ملاقات کی، جس کا مقصد، امریکی سربراہ کے بقول، ’مشرق وسطیٰ کے بگڑتے ہوئے سکیورٹی کے ماحول سے نمٹنے کے لیے طریقہ کار تلاش کرنا‘ ہے۔

دونوں رہنماؤں کے مابین اکثر تعلقات تُرش نوعیت کے رہے ہیں اور ایک برس سے زائد عرصے کے دوران یہ اُن کی پہلی ملاقات تھی۔

وائٹ ہاؤس میں ہونے والی یہ بات چیت جولائی میں امریکہ اور پانچ دیگر عالمی طاقتوں کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام پر طے ہونے والے سمجھوتے پر نیتن یاہو کی کھل کر مخالفت سامنے آنے کے بعد ہوئی ہے۔ تاہم، اوباما نے اِسے نااتفاقی کا ایک ’معمولی معاملہ‘ قرار دیا۔

دونوں سربراہان نے دونوں ملکوں کے درمیان طویل مدت سے قائم فوجی اور سکیورٹی سے متعلق اتحاد کا گرمجوشی سے اعادہ کیا۔ اوباما نے ’اسرائیل کی سلامتی کو اپنی خارجہ پالیسی کا اولین مقصد‘ قرار دیا۔
اوباما نے کہا کہ وہ اور نیتن یاہو اس بات کو زیر غور لائیں گے آیا داعش، حزب اللہ اور دیگر باغی گروپوں کی سرگرمیوں کا کس طرح کھل کر مقابلہ کیا جائے، جو ’دہشت گرد سرگرمیوں میں مشغول ہیں‘۔

اُنھوں نے اسرائیل کی جانب سے ایران کے جوہری سمجھوتے کی مخالفت کو تسلیم کیا، جس معاہدے کے ذریعے ایران کے جوہری پروگرام پر قدغنیں لگائی گئی ہیں، لیکن اس کے خلاف معاشی تعزیرات بھی اٹھالی جائیں گی۔ اوباما نے کہا کہ ’ایران کی جانب سے عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششوں‘ کو روکنے کے سلسلے مین دونوں رہنما یکسان لائحہ عمل تک پہنچنے کی کوشش کریں گے۔

اوباما انتظامیہ کیے اہل کاروں نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ امریکی صدر یہ نہیں سمجھتے کہ فلسطینی ریاست کے قیام پر سمجھوتا 2017ء سے پہلے ممکن ہے، جب وہ اپنا عہدہ صدارت چھوڑ رہے ہوں گے۔

نیتن یاہو نے کہا کہ اسلحے سے پاک فلسطینی ریاست اور یہودی ریاست کے وجود کے حق کو تسلیم کیے جانے پر زور دیتے ہوئے، ’ہم نے امن اور دونوں عوام کے لیے دو ریاستی حل کی توقعات ترک نہیں کیں‘۔

نیتن یاہو نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے دیگر ملکوں کے ساتھ بھی ’ہم حقیقی امن کےحصول کی خواہش رکھتے ہیں، اگر وہ بھی یہی چاہتے ہوں‘۔

ایران کے ساتھ سمجھوتے کے ناقدین میں نیتن یاہو سب سے آگے تھے، یہ کہتے ہوئے کہ اس سے ایران کی جانب سے جوہری بم بنانے کا کام نہیں رکے گا اور جس سے اسرائیل کو خطرہ لاحق رہے گا۔ اُنھوں نے مارچ میں ریپبلیکن پارٹی کی اکثریت والی امریکی کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے اپنی تشویش کی نشاندہی کی تھی، جس دورے کے دوران اُن کی اوباما سے ملاقات نہیں ہوئی تھی۔

اسرائیل روانہ ہونے سے کچھ ہی گھنٹے قبل، نیتن یاہو نے کہا تھا کہ بات چیت اسرائیل کی ’سکیورٹی کو تقویت دینے‘ پر مرکوز رہے گی۔

اُنھوں نے کہا کہ اسرائیل کی سلامتی ایک ایسا معاملہ ہے جس کے بارے میں امریکہ ہمیشہ پُرعزم رہا ہے، جس کا ہدف یہ ہے کہ تبدیل ہوتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کی مسابقتی فوجی ترجیح کو قائم رکھا جائے گا۔

اسرائیل کو پہلے ہی ہر سال تین ارب ڈالر امریکی فوجی امداد ملتی ہے، اور حکام کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو پُرامید ہیں کہ اس امداد کو سالانہ 4 سے 5 ارب ڈالر تک بڑھایا جائے گا۔ اس ضمن مین موجودہ 10 سالہ بندوبست کی میعاد 2017ء میں ختم ہو رہی ہے۔

نیتن یاہو کے بقول، ’میں سمجھتا ہوں کہ آئندہ دہائیوں کے دوران اسرائیل کے لیے امریکی امداد جاری رکھنے کی وضاحت کے سلسلے میں یہ ملاقات اہمیت رکھتی ہے‘۔

اوباما نے کہا ہے کہ وہ ایک نئے فوجی اعانتی سمجھوتے کے بارے میں بات کریں گے، حالانکہ امریکی اہل کاروں کا کہنا ہے کہ ملاقات کے دوران نیا دفاعی سمجھوتا طے نہیں ہوگا۔

اوباما کے قومی سلامتی کے معاون مشیر، بین رہوڈز کے الفاظ میں، ’ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بہت ہی اہم ہے کہ سکیورٹی کے غیریقینی ماحول میں، ہم اسرائیل اور اس کی سکیورٹی کے لیے اپنی طویل مدتی عزم کی جانب آگے بڑھ رہے ہیں، اور ہم ایک ایسا پیکیج ترتیب دے رہے ہیں کہ جس کا تعلق ایسے خطرات اور چیلنجوں سے ہے جو آئندہ عشرے کے دوران اسرائیل کو لاحق ہوں گے‘۔

متوقع طور پر اوباما اور نیتن یاہو اسرائیل فلسطین تشدد کی نئی لہر پر بھی گفتگو کریں گے، جس کی ابتدا دو ماہ قبل یروشلم کے مقدس مقام پر ہوئی جو اسرئیل کے اندر اور مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی تک پھیل گئی۔

امریکی اہل کاروں نے کہا ہے کہ اوباما اور نیتن یاہو امن سمجھوتے کی عدم موجودگی میں مشرق وسطیٰ کے فریق کے درمیان مزید محاذ آرائی روکنے کے بارے میں اقدام پر غور ہوگا۔

یہ دورہ ایک ایسے وقت ہو رہا ہے جب اسرائیلی وزیر اعظم کے نئے ترجمان، رون باراز کے کلمات پر تنازع اُٹھ کھڑا ہوا ہے۔ فیس بک پر ایک پوسٹ میں، باراز نے کہا تھا کہ نیتن یاہو کے پچھلے دورے پر اوباما کا ردِ عمل، بقول اُن کے، ’لبرل مغربی ملکوں میں یہودیت کے خلاف اپنائی گئی جدید سوچ کا غماز ہے‘۔ اُنھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری کی دماغی صلاحیت ایک 12 برس کے بچے کے برابر ہے۔

امریکی محکمہٴ خارجہ نے اس بیان کو ’پریشان کُن اور تکلیف دہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ نیتن یاہو نے اُن کی تعیناتی پر نظر ثانی کا وعدہ کیا ہے۔

فیس بک پر نئی پوسٹ میں، باراز نے ’تکلیف دہ کلمات‘ پر معذرت کرلی تھی، اور کہا کہ اُنھیں افسوس ہے کہ بیان سے پہلے اُنھوں نے نیتن یاہو کو پیشگی اطلاع نہیں دی تھی۔

XS
SM
MD
LG