رسائی کے لنکس

logo-print

سنہ 2017 تک اسرائیل فلسطین امن سمجھوتے کا امکان نہیں: اوباما


وائٹ ہاؤس ذرائع کے مطابق، اُنھوں نے مایوسی کا یہ اظہار ایسے وقت کیا ہے جب پیر کو وائٹ ہاؤس میں وہ اسرائیلی وزیر اعظم بینجامن نیتن یاہو کی میزبانی کی تیاری کر رہے ہیں

وائٹ ہاؤس کے اہل کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی صدر براک اوباما اِس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ جب وہ 2017ء کے اوائل میں عہدہ چھوڑیں گے، تب تک اسرائیلی اور فلسطینی رہنما امن سمجھوتےکے حوالے سے کسی خاص پیش رفت تک نہیں پہنچ پائیں گے۔

اُنھوں نے مایوسی کا یہ اظہار ایسے وقت کیا ہے جب پیر کو وائٹ ہاؤس میں وہ اسرائیلی وزیر اعظم بینجامن نیتن یاہو کی میزبانی کی تیاری کر رہے ہیں۔

اِس سربراہ اجلاس کو اسرائیلی حکومت کے ساتھ امریکی سفارتی تعلقات میں بہتری لانے اور فوجی تعلقات کو تقویت دینے کی ایک کوشش قرار دیا جا رہا ہے، جب کہ اسرائیل ایران جوہری سمجھوتے کی شدید مخالفت کرتا رہا ہے۔

روب مالے اوباما کی قومی سلامتی کونسل میں مشرق وسطیٰ کے ماہر ہیں۔ اُنھوں نے بتایا کہ ملاقات کے دوران، صدر نیتن یاہو پر زور دیں گے کہ وہ فلسطینیوں سے متعلق اپنی پالیسیوں کی تفصیل پیش کریں۔

بقول اُن کے، ’صدر کہہ چکے ہیں کہ ہمیں ایک حقیقت پسندانہ اندازہ لگانا ہوگا، وہ یہ کہ اُن کے باقی ماندہ میعاد صدارت کے دوران کوئی مربوط حتمی سمجھوتا طے نہیں پائے گا، اور طرفین کے مابین کوئی معنی خیز مذاکرات نہیں ہو پائیں گے‘۔

مالے نے سوال کیا کہ اِس حقیقت کے پیشِ نظر، جو ایک نیا معاملہ ہے، یہ کیسے ممکن ہے کہ وزیر اعظم یہ خیال کرتے ہوں کہ اسرائیل کسی پیش رفت کی جانب بڑھ رہا ہے؟

دریں اثنا، ’دِی یروشلم پوسٹ‘ کے مطابق، نیتن یاہو نے اپنے نئے اعلیٰ ترجمان، ران باراز کی تعیناتی کو معطل کردیا ہے، جنھوں نے اس سال کے اوائل میں فیس بک پر تحریر کیا تھا کہ اوباما یہودیوں کے مخالف ہیں، اور امریکی وزیر خارجہ جان کیری ’طفل مکتب‘ ہیں۔
نیتن یاہو نے جمعے کے روز ٹوئٹر پر شائع بیان میں کہا ہے کہ وہ باراز کی تعیناتی کا ازسر نو جائزہ لیں گے، اور جب وہ واشنگٹن سے اسرائیل واپس پہنچیں گے تبھی وہ اس معاملے پر دھیان دیں گے۔

باراز نے جمعرات کو فیس بک کی پوسٹ پر معذرت کا اظہار کیا، جب کہ نیتن یاہو نے اُنھیں ’مکمل طور پر ناقابلِ قبول‘ قرار دیا، اور کہا کہ اِن سے اُن کے مؤقف یا اسرائلی پالیسیوں کی ترجمانی نہیں ہوتی۔

باراز نیتن یاہو کے ہمراہ واشنگٹن نہیں جائیں گے۔

جمعے کو پُرتشدد کارروائی کے دوران، مغربی کنارے پر رملہ کے قصبے کے قریب چاقو سے وار کرنے کے ایک واقع میں ایک اسرائیلی شخص زخمی ہوا۔ مشتبہ حملہ آور موقعے سے فرار ہوگیا۔

اسرائیلی فوج کے مطابق، اِس سے چند ہی منٹ قبل، مغربی کنارے میں الخلیل کے قریب ایک اسرائیلی فوجی کے خلاف مبینہ حملے کو ناکام بنایا گیا، جب اسرائلی افواج نے ایک کار کے ڈرائیور پر گولی چلا دی۔ مبینہ طور پر وہ فوجی پر گاڑی چڑھانے کی کوشش کر رہا تھا۔

یہ واقعات ایسے وقت ہو رہے ہیں جب خطے میں پُرتشدد کارروائیاں شدت اختیار کرتی جا رہی ہیں۔

یکم اکتوبر سے فلسطینیوں کی جانب سے زیادہ تر چاقوؤں کے حملوں میں اب تک 11 اسرائیلی ہلاک، جب کہ اسرائیلی افواج نے 69 فلسطینیوں کو ہلاک کیا ہے، جن میں کم از کم 43 وہ فیسطینی شامل ہیں جو یا تو حملوں میں ملوث تھے یا جنھوں نے حملوں کی کوشش کی تھی۔

اوباما انتظامیہ نے اسرائیل فلسطین امن عمل کو بحال کرنے کی اہم کوشش کی ہے، جس کا مقصد اسرائیل کے ساتھ ساتھ فلسطین کی ایک علیحدہ ریاست کا قیام ہے۔

تاہم، سنہ 2014میں اسرائیل اور فلسطین اتھارٹی کے درمیان بات چیت معطل ہوگئی اور تب سے فلسطینیوں اور اسرائیل کے مابین تشدد کی کارروائیوں نے شدت اختیار کی ہے۔


XS
SM
MD
LG