رسائی کے لنکس

صدر ٹرمپ پر الزامات کی انکوائری کا مطالبہ


ایوان کی انٹیلی جینس  کمیٹی میں کیلی فورنیا کے ڈیمو کریٹ، رکن اسمبلی ایڈم چیف نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ اگر ضروری ہوا تو ہمیں صدر کے سمن جاری کرنے چاہیئں، لیکن ہم اس قسم کے کسی بھی مواد کو رضاکارانہ طور پر حاص بھی حاصل کر سکتے ہیں۔

ایک ممتاز ری پبلکن قانون ساز نے ایف بی آئی سے کہا ہے کہ وہ سابق ڈائریکٹر جیمز کونی کی جانب سے لگائے گئے الزامات سے منسلک کسی بھی دستاویز کمیٹی کے سپرد کرے۔

ان الزامات میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ان سے قومی سلامتی کے سابق مشیر مائیکل فلن کے خلاف تفتیش ختم کرنےکے لیے کہا تھا۔

قائم مقام ڈائریکٹر اینڈریو مک کوبی کو لکھے گئے ایک خط میں ایوان کی نگران کمیٹی کے چئیر مین جیسن چیفٹز نے مطالبہ کیا کہ کومی اور ٹرمپ سے متعلق تمام مواد 24 مئی تک کمیٹی کو مہیا کر دیا جائے۔

نیو یارک ٹائمز نے منگل کے روز سب سے پہلے یہ خبر دی تھی کہ کومی نے ٹرمپ کے ساتھ اپنی گفتگو کی تفصیلات پر مبنی ایک یاد داشت گزشتہ فروری میں فلن سے زبر دستی استعفی لینے کے ایک روز بعد تحریر کی تھی۔

ایوان کی انٹیلی جینس کمیٹی میں کیلی فورنیا کے ڈیمو کریٹ، رکن اسمبلی ایڈم چیف نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ اگر ضروری ہوا تو ہمیں صدر ٹرمپ کے سمن جاری کرنے چاہیئں، لیکن توقع ہے کہ ہم مطلوبہ مواد رضاکارانہ طور پر حاصل کر سکتے ہیں۔

تاہم اب صدر نے خود یہ تسلیم کیا ہے کہ انہوں نے یہ معاملہ اٹھایا تھا کہ آیا ڈائریکٹر اپنے خلاف جاری کسی کارروائی کی صورت میں ڈائریکٹر کے طور پر کام کرتے رہیں گے اور ڈائریکٹر یا ڈائریکٹر کے رفقائے کار کی جانب سے ان رپورٹوں کے پس منظر میں کہ وہ صدر کے ساتھ لازمی طور پر وفاداری کا عہد کریں، اور اب ان الزامات کے تناظر میں کہ صدر نے ان پر زور دیا تھا کہ وہ مائیکل فلن کے خلاف تفتیش ختم کردیں، اب بہت حد ہو چکی ہے۔

صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے مسٹر کومی کو اچانک بر طرف کر دیا تھا، جس کے نتیجے میں ایک زبردست سیاسی تنازع نے جنم لیا اور گزشتہ نومبر کے انتخابات میں روس کی مداخلت، خاص طور پر روس اور صدارتی مہم کے ایک رکن کے درمیان کسی تعلق کے جائزے کے لیے، کسی خصوصی پراسیکیوٹر یا غیر جانبدار کمیشن کے مطالبوں میں اضافہ ہو گیا۔

مسٹر فلن نے جسٹس ڈپارٹمنٹ کی جانب سے وہائٹ ہاؤس کو دیے گئے اس انتباہ کے بعد استعفیٰ دے دیا تھا کہ سابق جنرل ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے سے قبل، روسی سفیر سرگئی کسلیاک کے ساتھ اپنے رابطوں کی بنا پر بلیک میل ہو سکتے تھے۔

کئی قانونی تجزیہ کاروں نے یہ کہا ہے کہ صدر کی جانب سے ایسی کسی بھی درخواست کو انصاف کی راہ میں رکاوٹ سمجھا جا سکتا ہے، جو ایک ایسا جرم ہے جس کے نتیجے میں کانگریس صدر ٹرمپ کا مواخذہ کر سکتی ہے۔

وہائٹ ہاؤس نے منگل کے روز ایک بیان جاری کیا جس میں اس بات سے انکار کیا گیا کہ صدر ٹرمپ نے مسٹر کومی یا کسی اور سے فلن کے خلاف تفتیش ختم کرنے کے لیے کہا تھا۔

یہ نئی انتظامیہ کے لیے تازہ ترین تنازع ہے، جسے ان خبروں کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے روسی عہدے داروں کے ساتھ ، جن میں سفیر کسکیاک شامل تھے، ملاقات کے دوران حساس معلومات افشا کی تھیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG