رسائی کے لنکس

ایرانی صدر حسن روحانی کی مسلم ممالک سے متحد ہونے کی اپیل


ایران کے صدر حسن روحانی، فائل فوٹو

سہیل انجم

ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے مسلم ممالک پر زور دیا کہ وہ مغرب کی مبینہ سازشوں کا شکار ہو کر آپس کے اختلافات سے بچیں اور کلمے کی بنیاد پر متحد ہو جائیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران جنگ سے متاثرہ ممالک شام، یمن اور افغانستان کی مدد کرنا اور عوام کو درپیش مسائل اور پریشانیوں کو دور کرنا چاہتا ہے۔

یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ ایران نے حالیہ برسوں میں خطے میں لڑائی اور خون خرابہ ختم کرانے کی کوششیں کیں ہیں، ایرانی صدر نے کہا کہ ان کا ملک کسی بھی ملک کے ساتھ اختلاف اور جنگ نہیں چاہتا۔ وہ خطے کے تمام مسلم اور غیر مسلم ملکوں کے ساتھ برادرانہ تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے۔

حسن روحانی جو کہ اس وقت بھارت کے تین روزہ دورے پر ہیں، حیدرآباد میں ایک اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔ وہ جمعرات کے روز وہاں پہنچے ۔

انہوں نے شیعہ سنی اتحاد پر بھی زور دیا اور کہا کہ فوجی طاقت سے تنازعات کو حل نہیں کیا جا سکتا۔ مذاكرات سے ہی اختلافات دور کیے جا سکتے ہیں۔

ایرانی صدر نے یہ بھی کہا کہ عراق اور شام میں مغرب کے ذریعے جھگڑا پیدا کرنے قبل شیعہ، سنی اور کرد ایک ساتھ رہتے تھے۔ ہم قیام امن چاہتے ہیں اور اپنے حقوق کے تحفظ کے ساتھ مذاكرات کرنا چاہتے ہیں۔ تام انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو ہم مزاحمت بھی کریں گے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ اسلام دشمن طاقتیں ہیں جو اسلام کو تشدد کا مذہب بنا کر پیش کر رہی ہیں۔

حسن روحانی نے جمعہ کے روز حیدرآباد کے تاریخی قطب شاہی مقبروں کی زیارت کی اور مکہ مسجد میں نماز جمعہ ادا کی۔

وہ ہفتے کے روز نئی دہلی جائیں گے اور صدر، وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سے ملاقات اور تبادلہ خیال کریں گے۔ توقع ہے کہ اس موقع پر کئی معاہدوں پر دستخط بھی ہوں گے۔

ایرانی صدر نے مزید کہا کہ بھارت اور ایران کے باہمی رشتے سیاست اور معیشت سے اوپر ہیں۔ دونوں کی تاریخی جڑیں مشترک ہیں۔ ان کا ملک بھارت کے ساتھ مزید قریبی تعلقات چاہتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG