رسائی کے لنکس

logo-print

ایرانی صدر حسن روحانی نے پیر کے روز کہا ہے کہ تمام اہل کاروں پر نکتہ چینی کی گنجائش ہوا کرتی ہے، جب کہ ایران میں احتجاج کرنے والے مظاہرین معاشی معاملات کے علاوہ کئی باتوں پر ناخوش ہیں۔

روحانی نے سماجی میڈیا پر بندش ہٹانے پر بھی زور دیا۔

تقریباً دو ہفتے قبل، جب احتجاج کا آغاز ہوا، حکومت نے ’مسیجنگ ایپس‘ پر پابندی عائد کردی، جن میں ’انسٹاگرام‘ اور ’ٹیلی گرام‘ شامل ہیں۔ حکام نے اتوار کو انسٹاگرام پر پابندی ہٹالی جب کہ ٹیلی گرام ابھی تک بند ہے۔

ایرانی عدلیہ کے معاون سربراہ، حامد شہریاری نے پیر کے روز کہا ہے کہ ’’حالیہ بلووں‘‘ کے پیچھے کارفرما سرکردہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جنھیں سخت سزا دی جائے گی۔

سنہ 2009 کے بعد ایران میں ہونے والے یہ مظاہرے سب سے بڑی سطح کا حکومت مخالف احتجاج ہے۔ مظاہرین کو بے روزگاری اور عام استعمال کی اشیا کے تیزی سے بڑھتے ہوئے نرخ پر شکایت ہیں، جن کے بارے میں وہ سرکاری اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ دیگر مظاہرین نے حکومت کی حمایت میں ریلیاں نکالیں۔

اب تک کم از کم 12 افراد ہلاک جب کہ سینکڑوں گرفتار ہو چکے ہیں۔

ایرانی قائدین نے احتجاج بھڑکانے کا الزام غیر ملکی حکومتوں، خاص طور پر امریکہ اور سعودی عرب پر عائد کیا ہے۔

وزیر خارجہ محمدجواد ظریف نے پیر کے روز کہا ہے کہ ایران کے لوگوں کو احتجاج کا حق ہے، جب کہ امریکہ اور اس کے مشرق وسطیٰ کے اتحادیوں کو یہ حق حاصل نہیں۔

اُنھوں نے تہران میں سلامتی سے متعلق ایک اجلاس میں کہا کہ دوسرے ملکوں کے لیے عدم استحکام پیدا کرکے کوئی ملک محفوظ ماحول پیدا نہیں کرسکتا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے امریکہ کے کہنے پر ایران کی صورت حال پر جمعے کے روز ایک ہنگامی اجلاس منعقد کیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG