رسائی کے لنکس

logo-print

جے آئی ٹی کی رپورٹ عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنانے پر فیصلہ محفوظ


سابق وزیرِ اعظم نواز شریف احتساب عدالت میں پیشی کے بعد واپس روانہ ہورہے ہیں۔ (فائل فوٹو)

عدالت نے قطری شہزادے حمد بن جاسم اور جے آئی ٹی کے درمیان خط و کتابت کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنا لیا ہے۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے پاناما کیس میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ کو بطور شواہد عدالتی ریکارڈ کا حصہ نہ بنانے سے متعلق مریم نواز کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔

عدالت نے قطری شہزادے حمد بن جاسم اور جے آئی ٹی کے درمیان خط و کتابت کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنا لیا ہے۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے جمعرات کو شریف خاندان کے خلاف قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے دائر لندن فلیٹس ریفرنس کی سماعت کی۔

سابق وزیرِ اعظم نوازشریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر عدالت میں پیش ہوئے۔

سپریم کورٹ کے پاناما پیپرز کیس کے حتمی فیصلے میں دی گئی ہدایات کی روشنی میں قومی احتساب بیورو کی جانب سے نواز شریف اور ان کے صاحبزادوں کے خلاف تین ریفرنسز دائر کیے گئے تھے جب کہ مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کا نام ایون فیلڈ ایونیو میں موجود فلیٹس سے متعلق ریفرنس میں شامل ہے۔

ان چاروں ریفرنسوں کی سماعت اسلام آباد کی احتساب عدالت کر رہی ہے۔

جمعرات کو دورانِ سماعت مریم نواز کے وکیل امجد پرویز کی جانب سے جے آئی ٹی کی 10 جلدوں پر مشتمل رپورٹ کو بطور شواہد عدالتی ریکارڈ کا حصہ نہ بنانے کی درخواست کی گئی۔

مریم نواز کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ بیانات شواہد کے طور پر استعمال نہیں ہوسکتے جس پر ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ ملزمان نے جے آئی ٹی کی تشکیل اور رپورٹ کسی فورم پر چیلنج نہیں کی۔

عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد مریم نواز کی جے آئی ٹی رپورٹ کی 10 جلدیں بطور شواہد عدالتی ریکارڈ کا حصہ نہ بنانے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا اور قرار دیا کہ جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا کا بیان مکمل ہونے کے بعد فیصلہ سنایا جائے گا۔

جمعرات کو ہونے والی سماعت کے دوران پاناما کیس میں سپریم کورٹ کی جانب سے قائم مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ واجد ضیا نے اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔

جب سے نواز خاندان کے خلاف نیب ریفرنسز کی سماعت شروع ہوئی ہے یہ پہلا موقع تھا کہ نوازشریف اور واجد ضیا دونوں کمرۂ عدالت میں موجود رہے۔

واجد ضیا کے لکھا ہوا بیان پڑھ کر ریکارڈ کرانے کے دوران نوازشریف کی وکیل عائشہ حامد نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ واجد ضیا دستاویزات سے پڑھ کر بیان ریکارڈ کرا رہے ہیں یہ کہانی گھڑرہے ہیں۔ جس پر واجد ضیا مسکرا دیے۔

واجد ضیا نے موقف اختیار کیا کہ وہ یہاں جے آئی ٹی کے رپورٹ کے دفاع کے لیے موجود ہیں۔ یہ اہم کیس ہے اور ان کے بقول وہ پہلے دن سے اس کیس سے جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے اور پراسیکیوٹر کے بات کرنے میں فرق ہو سکتا ہے۔

واجد ضیا کی طرف سے جے آئی ٹی کے رکن عرفان منگی کی دستخط شدہ دستاویزات پیش کرنے پر مریم نواز کے وکیل نے پھر اعتراض کیا اور کہا کہ عرفان نعیم منگی عدالت کے سامنے بطور گواہ موجود نہیں۔ واجد ضیا عرفان منگی کی دستخط شدہ دستاویزات پیش نہیں کرسکتے۔

نیب پراسیکیوٹر نے مؤقف اخیتار کیا کہ واجد ضیا جے آئی ٹی کے سربراہ ہیں اور اس حیثیت میں وہ یہ دستاویزات پیش کر سکتے ہیں۔

واجد ضیا نے قطری شہزادے حمد بن جاسم اور جے آئی ٹی کے مابین خط و کتابت کا ریکارڈ اور قطری شہزادے کو جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کے لیے لکھا گیا خط بھی پیش کیا گیا۔

واجد ضیا نے قطری شہزادے حمد بن جاسم کا جے آئی ٹی کو جوابی خط بھی عدالت میں پیش کیا جس میں انہوں نے شریف خاندان کے ساتھ مالی معاملات طے کرنے سے متعلق اپنے دونوں خطوط کی تصدیق کی۔

عدالت نے خط کو بطور شواہد عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنا دیا ہے۔ عدالت نے حاضری کے بعد سابق وزیرِ اعظم نواز شریف اور صاحبزادی مریم نواز کو جانے کی اجازت دی تاہم نوازشریف واجد ضیا کا بیان سننے کے لیے کمرۂ عدالت میں موجود رہے۔

عدالت نے لندن فلیٹس ریفرنس کی سماعت کل جمعے تک ملتوی کردی ہے۔ واجد ضیا کا بیان جمعے بھی جاری رہے گا۔

کمرۂ عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں سابق وزیرِ اعظم نوازشریف کا کہنا تھا کہ ملک کو آئین کے مطابق چلنا چاہیے۔ سینیٹ انتخاب میں جو تماشا ہوا اس کی آئین میں کوئی گنجائش نہیں۔ آئین پر عمل درآمد کی خواہش بری بات نہیں۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ عمران خان اور زرداری صاحب کو سنجرانی ہاوٴس کا پتا کس نے بتایا اور کون سا جی پی ایس تھا کہ سارے طرم خان ایک جگہ اکٹھے ہوئے؟

انہوں نے کہا کہ ہم کسی قسم کی لڑائی کے حق میں نہیں تاہم محمود اچکزئی نے قبائل کے احتجاج میں جو بات کی اس کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG