رسائی کے لنکس

logo-print

شمالی کوریا سے رہا ہونے والے تین امریکی شہری کون ہیں؟


لوگ ایک ٹی وہ پر ان تین امریکی شہریوں کو دیکھ رہے ہیں جنہیں شمالی کوریا نے رہا کر دیا ہے۔

رہا کیے جانے والے دوسرے دو امریکی شہری پیانگ یانگ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے لیے کام کرتے تھے جو ملک کا واحد پرائیویٹ تعلیمی ادارہ ہے۔

شمالی کوریا نے حال ہی میں جن تین امریکی شہریوں کو رہا کیا ہے، وہ حکومت کے خلاف جرائم کے الزامات کے باعث اس الگ تھلگ ملک میں طویل عرصے تک پھنسے رہے تھے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی اپک ٹویٹ میں ان کی رہائی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ملک واپس آ رہے ہیں اور ہم ان کی آمد کے منتظر ہیں۔ انہوں نے ٹویٹ میں یہ بھی کہا ہے کہ شمالی کوریا کے صدر سے ملاقات کا مقام اور وقت طے کر لیا گیا ہے۔

ان تین امریکی شہریوں میں سے ایک کا نام کم ڈانگ چل ہے جو وہاں 2015 سے قید ہے۔ انہیں 2016 میں شمالی کوریا کی حکومت کے خلاف جاسوسي کرنے کے الزام میں 10 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی تھی۔

کم نے سی این این کو بتایا کہ وہ چین کے شہر یانجی میں سن 2001 سے رہ رہا تھا اور شمالی کوریا کی سرحد کے بالکل قریب واقع ایک اسپیشل اکنامک زون راسن سونبونگ میں ایک ہوٹل چلا رہا تھا۔ وہ شمالی کوریا میں پیدا ہوا اور1987 میں امریکی شہری بنا تھا۔

شمالی کوریا نے اس پر الزام لگایا تھا کہ اس نے شمالی کوریا کے ایک سابق سپاہی سے ملاقات کے دوران جوہری خفیہ معلومات سے متعلق ایک یوایس بی ڈرائیو اور کچھ دستاویزات قبول کیں تھیں۔

رہا کیے جانے والے دوسرے دو امریکی شہری پیانگ یانگ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے لیے کام کرتے تھے جو ملک کا واحد پرائیویٹ تعلیمی ادارہ ہے۔

ان دو میں سے ایک کا نام کم سانگ ڈک ہے جب کہ وہ اپنا امریکی نام ٹونی کم بھی استعمال کرتا ہے۔ اسے اپریل 2017 میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ پیانگ یانگ میں اپنی فلائٹ کا انتظار کر رہا تھا۔ وہ چین کی یان بین یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے لیے بھی کام کرتا ہے ۔ پیانگ یانگ کی یونیورسٹی کا چین کی یان بین یونیورسٹی سے اتحاد ہے۔ کم سانگ ڈک نے پیانگ یانگ کی یونیورسٹی میں بین الاقوامی معاشيات اور انتظامی أمور کے کورسز پڑھائے اور ایک یتیم خانے کے لیے بھی رضاکارانہ کام کیا۔

تیسرے امریکی شہری کا نام کم ہاک سونگ ہے ۔ وہ چین میں پیدا ہوا اور کیلی فورنیا میں تعلیم حاصل کی۔ اسے مئی 2017 میں ملک دشمن مشکوک سرگرمیوں کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ پیانگ یانگ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے چانسلر کا کہنا ہے کہ وہ یونیورسٹی کے ساتھ مل کر زراعت کے شعبے کی ترقی کے لیے کام کر رہا تھا۔

ان تینوں امریکی شہریوں نے پچھلے سال شمالی کوریا کے لیے امریکی سفارت کار جو ین سے اس وقت ملاقات کی تھی جب انہوں نے جیل میں بند ایک اور امریکی شہری اوٹو سارمبائر کو واپس لانے کے لیے شمالی کوریا کا دورہ کیا تھا۔

وارمبائر نے جنوری 2016 میں طالب علموں کے ایک گروپ کے ساتھ شمالی کوریا کا دورہ کیا۔ اسی دوران انہیں چوری کے الزام میں پکڑ لیا گیا۔ جیل میں ان کی طبیعت خراب ہونے پر بے ہوشی کی حالت میں جون 2017 کو امریکہ واپس بھیج دیا گیا جہاں چھ دن کے بعد بے ہوشی کی حالت میں ہی وہ چل بسا۔

سن 1996 سے اب تک شمالی کوریا 16 امریکیوں کو قید کر چکا ہے جنہیں بعد ازاں مختلف معیاد کی سزاؤں کے بعد چھوڑ دیا گیا تھا۔ ان میں سب سے لمبی قید کی سزا کم ڈانگ چل نے کاٹی ہے جو 900 دنوں سے زیادہ ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG