رسائی کے لنکس

شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹا دیا گیا، نوٹی فیکیشن جاری


صدر مملکت نے جمعرات کی رات گئے ’سپریم جوڈیشل کونسل‘ کی سفارش کی منظوری دے دی ہے، جس میں عدالت عالیہ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹائے جانے کی سمری کی توثیق ہوگئی ہے۔

اس ضمن میں صدر عارف علوی نے پیش کردہ تجویز پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے بعد وزارتِ قانون نے باضابطہ نوٹی فیکشن جاری کر دیا ہے، جس کے بعد جسٹس شوکت عزیز صدیقی اپنے عہدے پر برقرار نہیں رہے۔

اس سے قبل، سپریم جوڈیشل کونسل نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینیئر ترین جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹانے کی سفارش کی تھی؛ اور اس حوالے سے کونسل نے اپنی سفارش صدر مملکت کو بھی ارسال کی تھی۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف ’’اختیارات کے ناجائز استعمال‘‘ اور حساس ادارے، آئی ایس آئی کے خلاف تقریر پر سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر تھے۔

رواں برس جولائی میں ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے خفیہ ایجنسی پر سنگین الزامات لگاتے ہوئے کہا تھا کہ ’’خوف و جبر کی فضا کی ذمہ دار عدلیہ بھی ہے، جب کہ میڈیا والے بھی گھٹنے ٹیک چکے ہیں اور سچ نہیں بتا سکتے، میڈیا کی آزادی بھی بندوق کی نوک پر سلب ہو چکی ہے‘‘۔

صدر مملکت نے سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش پر مبنی سفارش کی منظوری دے دی ہے، اور یوں، جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹانے کی توثیق ہوگئی ہے۔

ادھر، ایک بیان میں، اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینئر جج، شوکت عزیز صدیقی نے کہا ہے کہ اُن کا کیس کھلی عدالت میں چلانے کی اُن کی استدعا نہیں مانی گئی، ناہی اس معاملے پر چھان بین کے لیے کوئی کمیشن تشکیل دیا گیا۔

اُنھوں نے کہا ہے کہ وہ بہت جلد اپنا تفصیلی مؤقف بیان کریں گے، جسے عوام کے سامنے رکھا جائے گا۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے سپریم جوڈیشل کونسل کی طرف سے اپنی معزولی کی سفارش پر کہا ہے کہ ’’میرے لیے یہ فیصلہ غیر متوقع نہیں‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’تقریباً تین سال پہلے سرکاری رہائش گاہ کی مبینہ آرائش کے نام سے شروع ہونے والے ایک بے بنیاد ریفرینس سے، پوری کوشش کے باوجود، کچھ نہ ملا، تو ایک بار ایسوسی ایشن سے میرے خطاب کو جواز بنا لیا گیا جس کا ایک ایک لفظ سچ پر مبنی تھا‘‘۔

بقول اُن کے، ’’میرے مطالبے اور سپریم کورٹ کے واضح فیصلے کے باوجود یہ ریفرینس کھلی عدالت میں نہیں چلایا گیا، نہ ہی میری تقریر میں بیان کئے گئے حقائق کو جانچنے کے لئیے کوئی کمیشن بنایا گیا۔ میں اللہ کے فضل و کرم سے اپنے ضمیر، اپنی قوم اور اپنے منصب کے تقاضوں کے سامنے پوری طرح مطمئن اور سرخرو ہوں‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’انشااللہ، اپنا تفصیلی موقف بہت جلد عوام کے سامنے رکھوں گا اور ان حقائق سے بھی آگاہ کروں گا جو میں نے اپنے تحریری بیان میں سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے رکھے تھے؛ اور بتاوں گا کہ تقریباً نصف صدی بعد ہائی کورٹ کے ایک جج کو اس طرح معزول کرنے کے حقیقی اسباب کیا ہیں‘‘۔

XS
SM
MD
LG