رسائی کے لنکس

سیف سٹی پراجیکٹ سے اغوا کی ویڈیو کیوں نہیں ملی؟ عدالت کی برہمی


اسلام آباد ہائی کورٹ۔
اسلام آباد ہائی کورٹ۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت سے اغوا کیے گئے شہری سلیمان فاروق کو بازیاب کروانے میں ناکامی پر وفاقی سیکرٹریز اور اسلام آباد انتظامیہ کے افسران کے خلاف انضباطی کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔

عدالت عالیہ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے پانچ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں سیکرٹری دفاع، سیکرٹری داخلہ، آئی جی اسلام آباد اور متعلقہ ایس ایچ او کو قانون کے مطابق، اپنی ڈیوٹیز پوری کرنے میں ناکامی پر فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کا حکم دے دیا ہے، جبکہ تمام افسران پر 20،20 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کردیا ہے۔

عدالت نے متعلقہ وزارتوں کو حکم دیا ہے کہ ان تمام سیکرٹریز اور افسران کے کیس اعلیٰ حکام کے ذریعے وزیر اعظم کو بھیجے جائیں اور قانونی کارروائی کے بعد ان کو فوری طور پر اپنے عہدوں سے فارغ کر دیا جائے۔

عدالت نے تحریری فیصلے میں اسلام آباد کے سیف سٹی پراجیکٹ پر بھی سوال اٹھائے ہیں اور تحریر کیا ہے کہ ایک جہت یہ بھی عدالت کے سامنے آئی ہے کہ جس دن سلیمان فاروق اغوا ہوا، سیف سٹی کیمرہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق اس دن پولیس کی گاڑی اس کا پیچھا کر رہی تھی۔ لیکن آج تک متعلقہ حکام نہ اس گاڑی کا، نہ کچھ اور پتہ لگانے میں کامیاب ہوئے۔

فیصلے میں جسٹس محسن اختر کیانی نے تحریر کیا ہے کہ عدالت کو معلوم ہوا ہے کہ بہت سارے کیسز میں سیکیورٹی ادارے اس قابل نہیں کہ وہ سیف سٹی پراجیکٹ سے مدد لیں، سیف سٹی پراجیکٹ پر قومی خزانے سے اربوں روپے خرچ ہو رہے ہیں۔ لیکن اس کا کوئی قابل ذکر فائدہ حاصل نہیں کیا جا رہا اور اس وجہ سے دہشت گرد، ڈکیت اور ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث وفاقی دارالحکومت میں بغیر کسی رکاوٹ کے گھوم پھر سکتے ہیں۔ اس رویے نے پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں پر اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں، کیونکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سیکیورٹی ادارے شہریوں کو آئین میں دئیے گئے بنیادی حقوق کے تحت تحفظ دینے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔

فیصلے کے مندرجات کے مطابق، شہری سلیمان فاروق کے لاپتہ ہونے کی ایف آئی آر گزشتہ سال پانچ اکتوبر کو تھانہ لوئی بیر میں درج کی گئی جبکہ شہری چار اکتوبر کی شام شہر سے لاپتا ہوا۔

عدالت نے فیصلے میں مزید کہا ہے کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی سربمہر لفافے میں بند رپورٹ میں عدالت کو بتایا گیا ہے کہ یہ جبری گمشدگی کا کیس ہے۔ تاہم، دوسری جانب سے کوئی رپورٹ پیش نہیں کی گئی، جس سے پتہ چلے کہ لاپتا شخص کسی ریاست مخالف سرگرمی میں ملوث تھا، اگر کوئی شخص ریاست مخالف سرگرمی میں بھی ملوث ہو، تو اس کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔

سولہ جولائی کو کیس کی سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے پولیس کی جانب سے رپورٹ جمع کرانے کیلئے جب مزید مہلت مانگی تو جسٹس محسن اختر کیانی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ جتنا وقت دینا تھا دے چکے، سیف سٹی پراجیکٹ کے ہوتے ہوئے بندے کو اٹھایا جاتا ہے، مگر آپ لوگوں کو کچھ نظر نہیں آتا۔

انہوں نے ریمارکس میں کہا کہ سیف سٹی پراجیکٹ سے لوگوں کی ذاتی تصاویر واٹس ایپ کرتے ہو، اس پر آپ لوگوں کی نظریں ہوتی ہیں، شہری کے اغوا کی آپ کو سیف سٹی سے ویڈیو نہیں ملتیں۔

مغوی کے والد نےبیٹے کی بازیابی کیلئےاسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر رکھا ہے، پروفیسر محمد شریف کی دائر کردہ پٹیشن کے مطابق ان کا 27 سالہ بیٹا سلیمان فاروق الیکٹریکل انجینئر ہے جو 4 اکتوبر کو بحریہ ٹاؤن فیز 3 سے لاپتا ہوگیا تھا۔

پٹیشنر کا کہنا تھا کہ انہوں نے لوئی بھیر پولیس اسٹیشن پہنچ کر گمشدگی کی فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کروائی۔ پٹیشن کے مطابق سلیمان کو بظاہر ایک طاقتور ادارے نے اٹھا لیا ہے اور ان کے والد ان کی تلاش میں دربدر پھرتے رہے۔

درخواست گزار کا مزید کہنا تھا کہ گمشدگی کی شکایت کمیشن برائے لاپتا افراد میں بھی کی گئی۔ لیکن بے سود رہی، درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ سیکیورٹی ایجنسی اور وفاقی حکومت کے متعلقہ اداروں کو ان کے لاپتا بیٹے کا اتا پتا معلوم کرنے کی ہدایت کی جائے اور اگر اس نے کوئی جرم کیا ہے تو اس پر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

پروفیسر محمد شریف نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا اکہ انکے بیٹے نے یونیورسٹی آف ٹیکسلا سے بی ایس الیکڑیکل انجنئیرنگ کی ہوئی تھی اور وہ شام کو نجی ہاوسنگ سوسائٹی بحریہ میں ٹیوشن پڑھاتا تھا اور ٹیوشن کے بعد روزانہ کی بنیاد پر اسکیم تھری راولپنڈی میں واک کیلئے جاتا تھا۔ ٹیوشن کے بعد سلمان کی اپنی والدہ کو کال کرنا عادت تھی۔ لیکن جس دن اسکا اغوا ہوا اس دن سلمان کی کال نہ آئی اور شام کو ایک نامعلوم شخص نے فون کرکے بتایا کہ آپکے بیٹے کی گاڑی ڈھوک کالا خان میں کھڑی ہے۔

پروفیسر محمد شریف نے بتایا کہ وہ خود گاڑی کو لے کر تھانے پہنچے اور تھانہ لوہی بھیر میں رپورٹ درج کرائی اور اگلے دن اس کو ایف آئی آر میں تبدیل کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ کلاس ون سے لے کر ایم ایس تک سلیمان کبھی اکیلا نہیں رہا اور وہ ایک نہایت ذہین طالبعلم رہا ہے۔

عدالتی فیصلے پر پروفیسر محمد شریف نے کہا کہ ملٹری انٹیلی جنس، آئی ایس آئی، ایف آئی اے سمیت تمام تحقیقاتی ایجنسیوں نے عدالت کو آگاہ کیا ہے کہ سلمان کے خلاف کوئی شکایات نہیں ملی۔ اب تحقیقاتی ایجنسیوں کا کام ہے کہ وہ میرے بیٹے کو تلاش کریں۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ سلیمان نے 2018ء میں امریکہ کی ٹیکساس یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی میں داخلے کیلئے اپلائی کیا، اسکے ویزے کا پراسس چل رہا تھا کہ اس کو ہٹا لیا گیا۔ پروفسیر محمد شریف نے بتایا کہ سلیمان کے بڑے بہن بھائی بھی پی ایچ ڈی ہیں جبکہ خود انہوں نے کیمسٹری میں ایم ایس کر رکھا ہے۔ امریکہ میں کام کرنے کے باوجود انہوں نے پاکستان کو ترجیح دی اور یہ محب وطن ہونے کا ثبوت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ سلیمان جہاں بھی ہے اسے رہا کیا جائے، ہم سے کبھی کسی نے رابطہ نہیں کیا۔ ہم نے پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر کوئی مجرمانہ سر گرمی میں ملوث ہے تو اسکے خلاف مقدمہ درج کیا جاتا ہے، اسکا ٹرائل کیا جاتا ہے۔ لیکن یہاں ایسا کچھ نہیں۔

XS
SM
MD
LG