رسائی کے لنکس

چاغی: سیکیورٹی فورسز کی مظاہرین پر فائرنگ؛ مزید پانچ افراد زخمی، کشیدگی میں اضافہ


چاغی میں سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سےایک ڈرائیور کی ہلاکت کے خلاف مظاہرہ
چاغی میں سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سےایک ڈرائیور کی ہلاکت کے خلاف مظاہرہ

رقبے کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے ضلع ، چاغی میں پانچ روز قبل مبینہ طور پر سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے ڈرائیور حمید اللہ کی ہلاکت کے بعد سول سوسائٹی اور مقامی افراد کا احتجاج جاری ہے۔

بلوچستان کے ضلع چاغی سےملنے والی اطلاعات کے مطابق پیر کو چاغی شہر میں حالات ایک بار پھر کشیدہ ہوگئے۔ سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین میں جھڑپیں ہوئیں، جس کے نتیجے میں پانچ افراد زخمی ہو گئے ہیں جنہیں طبی امداد فراہم کرنے کے لیے چاغی کے سرکاری اسپتال منتقل کیا گیا۔

چاغی اسپتال ذرائع نے بتایا ہے کہ زخمی ہونے والوں میں سے دو کی حالت تشویش ناک ہے۔

اس سے قبل مظاہرین نے چاغی میں فرنٹیئر کور( ایف سی)کے کیمپ کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا جس کے بعد فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی۔

ذرائع بتاتے ہیں کہ چاغی کے اسپتال میں لائے جانے والے چار زخمیوں کو کوئٹہ کے ٹراما سینٹرمنتقل کردیا گیا ہے۔ ایم ڈی ٹراما سینٹر ڈاکٹر سید یاسر حسین شاہ نے بتایا ہے کہ چاروں زخمی افراد کو ابتدائی طبی امداد دی جا چکی ہے۔

چاغی میں فورسز کے خلاف احتجاج کیوں کیا جارہا ہے؟

یاد رہے کہ پانچ روز قبل بلوچستان کے ضلع چاغی کا رہائشی حمید اللہ (زمباد) ایرانی ساختہ گاڑی میں پاکستان افغانستان سرحدی علاقے سے واپس آرہا تھا جب سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے ہلاک ہوگیا۔

حمید اللہ کے بڑے بھائی ابراہیم بلوچ نے چاغی سے فون کے ذریعے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ان کے بھائی کو چاغی میں پاکستان افغانستان سرحدی علاقے ڈھک میں فورسز نے فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا۔

ان کے بقول، حمید اللہ کو سر پر گولی لگی جس کے بعد انہیں اسپتال منتقل کیا گیا، مگر وہ جانبر نہ ہوسکے اور ان کی تدفین کردی گئی ہے۔

ابراہیم نے الزام لگایا ہے کہ میرے بھائی کو فورسز نے دیگر ڈرائیوروں کے ہمراہ پکڑا اور انہیں پیدل لے جارہے تھے۔ اتنے میں چلتے چلتے اچانک جب میرے بھائی نےپیچھے مڑ کر دیکھا تو فورسز نے فائرنگ کی اور میرا بھائی مارا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ حمید اللہ کے تین بچے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فورسز نے انہیں یتیم کردیا ہے۔

ابراہیم کے مطابق یہاں لوگوں کی اکثریت بارڈر جا کرکاروبار کرتی ہے اور اگر ایسا نہ کریں تو ان کے گھروں میں فاقے پڑ جاتے ہیں۔

حمید اللہ نے حال ہی میں اپنی ذاتی گاڑی خریدی تھی۔ وہ افغانستان کے صوبہ نمروز سے متصل سرحدی علاقے میں سامان لے جاتے اور وہاں سے واپسی پر افغانستان سے سامان لاتے تھے۔

اس واقعے کے فوراً بعد ضلع چاغی کے مقامی باشندوں نے سیکیورٹی فورسز کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اور کیمپ کے باہر پتھراؤبھی کیا جس پر فورسز نے فائرنگ کی اور 7 مظاہرین زخمی ہوگئے۔

یاد رہے کہ پاکستان کے افغانستان اور ایران سے متصل سرحدی علاقوں میں لوگوں کی اکثریت کا گزر بسر بارڈر ٹریڈ سے ہے۔ یہاں کے لوگوں کی بڑی تعداد ایران سے پییڑول اور ڈیزل کے علاوہ خوردنی اشیاء اسمگل کرکے پاکستان لاتی ہے اور یہی ان کے روز گار کا واحد ذریعہ بھی ہے۔

چاغی واقعے پر بلوچستان بھر میں احتجاجی مظاہرے

واقعے کے خلاف بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام اتوار کو کوئٹہ، حب چوکی اور دیگر علاقوں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔

اس حوالے سے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے بلوچستان میں انسانی حقوق کی کارکن ماہ رنگ بلوچ کا کہنا تھا کہ چاغی کا واقعہ انتہائی قابل افسوس ہے۔انہوں ںے واقعے کے حوالے سے بتایا کہ پانچ روز قبل چاغی کے سرحدی علاقے میں 200 سے زائد پک اپ ڈرائیور سرحدی علاقے سے واپس آرہے تھے تو فورسز کی جانب سے انہیں روکا اور ہراساں کیا گیا۔

گوادر دھرنا: 'ہم سی پیک کے خلاف نہیں، اپنے حقوق کی بات کر رہے ہیں'
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:44 0:00

ماہ رنگ بلوچ کے بقول، فورسز اور ڈرائیوروں میں بنیادی جھگڑا ٹوکن پر ہوا۔انہوں نے الزام لگایا کہ پہلے فی پک اپ 10 ہزار روپے لیا جاتا تھا مگر اب ان سے 20 ہزار روپے فی پک اپ طلب کیا جانے لگا ہے۔انہوں نے کہا کہ اطلاعات ہیں کہ اسی جھگڑے کے دوران فورسز کی فائرنگ سے ڈرائیور حمید اللہ مارا گیا۔

ماہ رنگ نے بتایا کہ بلوچستان کے مقامی لوگ یہاں کے وسائل سے محروم ہیں یہاں لوگوں کی بڑی تعداد یا تو کھیتی باڑی کرتی ہے یا ان کا روزگار بارڈر ٹریڈ سے وابستہ ہے۔ مگر اب سرحدی کاروبار کو بھی بلوچستان کے لوگوں کے لیے غیر محفوظ بنادیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس واقعے کے خلاف بلوچستان بھر میں احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں اور مطالبہ کیا کہ اس واقعے میں ملوث سیکیورٹی فورسز کے اہل کاروں کے خلاف فی الفور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

چاغی واقعے کی بلوچستان کے سیاسی و سماجی حلقوں نے مذمت کی ہے۔ بلوچستان بار ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ چاغی میں ظلم اور بربریت کی انتہا کی گئی ہے۔بیان کے مطابق حکومت لوگوں کو روزگار دینے میں ناکام ہوچکی ہے۔ ریکوڈک اور سینڈک کے مقامی نوجوان روزگار کے حصول کی بازی ہارنے لگے ہیں۔

حکومت کا کیا موقف ہے؟

وزیر اعلیٰ بلوچستان نے چاغی میں ڈرائیور کی ہلاکت اور اس کے بعد پیدا ہونے والے کشیدہ حالات کا نوٹس لے لیا ہے اور اس سلسلے میں کمشنر رخشان ڈویژن سے رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔

وزیر اعلیٰ نے ڈپٹی کمشنر چاغی اور اسسٹنٹ کمشنر ز دالبندین اور تفتان کے فی الفور تبادلے کا بھی حکم دیا ہے۔اس سلسلے میں ڈرائیور کی ہلاکت کے واقعے کے محرکات جاننے کے لیے تحقیقات کرانے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

XS
SM
MD
LG