رسائی کے لنکس

آئیوا سپریم کورٹ نے اسقاط حمل کا نیا قانون معطل کر دیا


واشنگٹن میں خواتین کا مظاہرہ۔ فائل فوٹو

امریکی آئین کے تحت خواتین کو اپنا حمل ختم کرانے کا حق حاصل ہے، لیکن اسقاط حمل کے مخالفین اس سلسلے میں سخت تر قوانین بنانے پر زور دیتے آ رہے ہیں، خاص طور پر قدامت پسند ریاستوں میں۔

امریکی ریاست آ ئیوا کی سپریم کورٹ نے ری پبلیکن گورنر کی جانب سے 20 ہفتوں کےبعد حمل ختم کرانے پر پابندی کے قانون پر دستخطوں کے چند گھنٹوں کے بعد اس پرعارضی طورپر عمل درآمد روکنے کا ایک ہنگامی حکم جاری کیا ہے۔

ریاست آئیوا کی ری پبلیکن کنٹرول کے ایوان زیریں اور سینیٹ کے پچھلے مہینے نے حمل کے 20 ہفتے پورے ہونے کے بعد اسے ساقط کرانے پر پابندی کےقانون کی منظوری دی تھی اور 20 ہفتوں سے قبل حمل ختم کرانے کے لیے تین دن انتظار کی شرط عائد کی تھی۔

منظور کیے جانے والے قانون کے تحت جنسی زیادتی یا باہمی رضامندی سے جنسی تعلقات قائم کرنے کی صورت میں اسقاط حمل کی رعایت نہیں دی گئی تھی۔ تاہم ماں کی زندگی کو خطرے کی صورت میں اس پابندی کا اطلاق نہیں ہوتا۔

شہری آزادیوں کی امریکی تنظیم اے سی ایل یو اوراسقاط حمل اورخاندانی منصوبہ بندی کی سہولتیں فراہم کرانے والے ایک گروپ نے اسقاط حمل سے قبل تین دن کے انتظار سے متعلق شق کو عدالت میں چیلنج کیا۔

ریاستی سپریم کورٹ نے جمعے کے روز ایک ڈسٹرکٹ جج کے فیصلے کے خلاف حکم امتناحی جاری کیا، جس نے اسقاط حمل کے قانون کے خلاف اپیل مسترد کر دی تھی۔

امریکی آئین کے تحت خواتین کو اپنا حمل ختم کرانے کا حق حاصل ہے، لیکن اسقاط حمل کے مخالفین اس سلسلے میں سخت تر قوانین بنانے پر زور دیتے آ رہے ہیں، خاص طور پر قدامت پسند ریاستوں میں۔

امریکہ کی 24 ریاستوں میں ایک خاص مدت کے بعد اسقاط حمل پر پابندی عائد ہے ، جن میں 17 ریاستیں 20 ہفتوں کے حمل کے بعد اسے ختم کرانے کی اجازت نہیں دیتیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG