رسائی کے لنکس

ناروے کی عدالت نے سات بھیڑیوں کی ہلاکت پر عمل درآمد روک دیا


فائل فوٹو

محکمہ جنگلی حیات کے حکام نے پارلیمنٹ کی مقرر کردہ تعداد کے پیش نظر اس سال موسم سرما میں 50 بھیڑیوں کو ہلاک کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپ اس کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔

ناروے کی ایک عدالت نے اوسلو کے قریب پکڑے گئے سات بھیڑیوں کو ہلاک کرنے کا حکم معطل کر دیا ہے۔

ناروے کے جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے عالمی ادارے اور بھیڑیں پالنے والوں کے درمیان 12 بھیڑیوں پر تنازع چل رہا تھا ۔

فارم مالکان کا الزام ہے کہ بھیڑیے ان کی بھیڑیوں کو ہلاک کر رہے ہیں جس سے انہیں نقصان ہو رہا ہے۔

ناروے کے ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ نے اوسلو ڈسٹرکٹ کی عدالت میں درخواست دائر کی تھی کہ 12 بھیڑیوں کو ہلاک کرنے کا حکم منسوخ کیا جائے۔

بارہ بھیڑیوں میں سے پانچ کو پہلے ہی ہلاک کیا جا چکا ہے جب کہ باقی ماندہ سات کی ہلاکت عدالتی کارروائی کی وجہ سے التوا میں پڑی ہوئی ہے۔

سیکنڈے نیویا کے اس ملک میں کی گئی تازہ ترین گنتی میں بھیڑیوں کی تعداد کا اندازہ 105 سے 112 کے درمیان لگایا گیا ہے۔

جنگلی حیات کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ بھیڑیوں کی نسل کو معدومی کا خطرہ ہے اور اس بچانے کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے۔ تاہم اس وقت ملک میں ان کی تعداد اس سطح سے کچھ زیادہ ہے جتنی کہ ناروے کی پارلیمنٹ نے مقرر کی ہے۔

محکمہ جنگلی حیات کے حکام نے پارلیمنٹ کی مقرر کردہ تعداد کے پیش نظر اس سال موسم سرما میں 50 بھیڑیوں کو ہلاک کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپ اس کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔

حال ہی میں أوسلو کی ایک عدالت نے جنوب مشرقی ناروے میں 7 بھیڑیوں کو ہلاک کرنے سے روک دیا، جب کہ ملک کے دوسرے حصوں میں مقررہ ہدف کے تحت 14 بھیڑیوں کو ہلاک کیا جائے گا۔

ناروے کے ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ نے بھیڑیوں سے متعلق حکومت کی پالیسی کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حکومتی فیصلہ ملک کے قانون اور آئین کی خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ قدرتی حیات کے تحفظ سے متعلق بیرن کنونشن کے بھی منافی ہے۔

ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ کے مطابق ناروے میں بھیڑوں کی صرف ایک اعشاریہ تین فی صد بھیڑوں کی ہلاکت کی ذمہ داری بھیڑیوں پر عائد ہوتی ہے جب کہ باقی ماندہ ہلاکتیں حادثات، ریچھوں اور دوسرے گوشت خور جانوروں کے حملوں کے سبب ہوتی ہیں۔

اوسلو کی عدالت اس مقدمے کا حتمی فیصلہ بعد میں کرے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG