رسائی کے لنکس

logo-print

اعتماد سازی کے لیے اعلیٰ سطحی رابطے معاون ہیں: پاکستانی قانون ساز


ملک میں سیاسی رہنماؤں نے بھی اس ملاقات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے روابط اعتماد سازی کے لیے مددد گار ثابت ہوتے ہیں۔

پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کی جمعہ کو لاہور میں ہونے والی ملاقات کا اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے خیرمقدم کیا ہے جب کہ پاکستان میں حزب مخالف کی سیاسی جماعتیں بھی اس اعلیٰ سطحی رابطے کو دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہتری کا پیش خیمہ قرار دے رہی ہیں۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کابل سے دہلی جاتے ہوئے مختصر قیام کے لیے لاہور میں رکے اور اپنے پاکستانی ہم منصب نواز شریف سے ملاقات میں باہمی تعلقات اور روابط کے فروغ پر اتفاق کیا تھا۔

بان کی مون کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ سیکرٹری جنرل ایک طویل عرصے سے دونوں ملکوں کے رہنماؤں پر مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کے لیے زور دیتے آئے ہیں اور یہ (ملاقات) درست سمت میں اٹھایا جانے والا قدم ہے۔

ملک میں سیاسی رہنماؤں نے بھی اس ملاقات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے روابط اعتماد سازی کے لیے مددد گار ثابت ہوتے ہیں۔

حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ مسلسل رابطے ہی تصفیہ طلب معاملات کے حل کا واحد راستہ ہیں۔

سابق وفاقی وزیر داخلہ اور قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیر پاؤ نے ہفتہ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ تعلقات میں در آنے والی کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے ایسے رابطوں کو جاری رکھنا چاہیے۔

"ہم اپنے ہمسایوں کے ساتھ تعلقات اچھے رکھنا چاہتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ جامع مذاکرات میں جو سنگین معاملات ہیں اس پر بھی سنجیدگی کے ساتھ بات کرنے کی ضرورت ہے، تو اس لحاظ سے ہم سمجھتے ہیں کہ یہ وزیراعظم مودی کی طرف سے ایک اچھا قدم تھا۔"

آفتاب شیرپاؤ قومی اسمبلی کی خارجہ امور کمیٹی کے رکن بھی ہیں۔ ایوان بالا کی ایسی ہی کمیٹی کے رکن اور حزب مخالف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر شبلی فراز کہتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے قائدین کو چاہیے کہ وہ کسی بھی واقعے کو تعلقات میں خلل کا باعث نہ بننے دینے کے لیے بھی کام کریں۔

"یہ بہت اہم ہے کہ دونوں قائدین دونوں ممالک اس بات کو طے کریں کہ کوئی بھی واقعہ کیونکہ دونوں طرف ایسے عناصر موجود ہیں جو کہ اس عمل کو آگے بڑھنے نہیں دینا چاہتے تو کوئی ایسی کارروائی چاہے وہ دہشت گردی کی ہو یا کچھ اور ہو امید تو ہم کرتے ہیں کہ نہ ہو لیکن اگر ایسا کچھ ہو تو اس سے یہ عمل پٹڑی سے اترنا نہیں چاہیے۔ دوراندیشی کے ساتھ ہمیں اس عمل کو آگے بڑھانا ہے۔"

دونوں ملکوں کے درمیان رواں ماہ ہی ایک عرصے سے جاری کشیدہ تعلقات میں بہتری آنا شروع ہوئی اور بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے اسلام آباد میں پاکستانی مشیر خارجہ سرتاج عزیز سے ملاقات کے بعد باہمی جامع مذاکرات کی بحالی کا اعلان بھی کیا۔

دونوں ہمسایہ ایٹمی قوتوں کے خارجہ سیکرٹری سطح کے مذاکرات آئندہ ماہ کے وسط میں اسلام آباد میں ہونے جا رہے ہیں جس میں دو طرفہ مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے کے نظام الاوقات اور دیگر امور زیر بحث آئیں گے۔

امریکہ بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان بہتر ہوتے تعلقات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہہ چکا ہے کہ واشنگٹن دونوں ملکوں کو اپنے معاملات بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کیونکہ ان کے کشیدہ تعلقات خطے میں امن و خوشحالی کے لیے مضر ہیں۔

XS
SM
MD
LG