رسائی کے لنکس

اقوامِ متحدہ مبصرین کی گاڑی پر فائرنگ کی تحقیقات کرے، پاکستان کا مطالبہ


لائن آف کنٹرول کے قریب پاکستانی کشمیر میں فائرنگ کا نشانہ بننے والی اقوام متحدہ مبصر مشن کی گاڑی۔

پاکستان نے اقوام متحدہ سے لائن آف کنڑول سے متصل پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کے مبصر مشن کی گاڑی پر فائرنگ کے مبینہ واقعہ کی شفاف تحقیقات کرانے کی درخواست کی ہے۔

نیویارک میں پاکستان کے مستقل مندوب نے اقوام متحدہ کی سیکرٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام خط میں پاکستان کے زیر اتنطام کشمیر میں اقوام متحدہ کے مبصر مشن کی گاڑی پر فائرنگ کے مبینہ واقعہ کی مذمت اور شفاف تحققیقات کی درخواست کی ہے۔ اس کے ساتھ پاکستان نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ دونوں ملکوں کے درمیان 2003 میں طے پانے والے فائر بندی کے معاہدے کی پاسداری کرے۔

یادر ہے کہ جمعے کے روز پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ 'آئی ایس پی آر' نے الزام عائد کیا تھا کہ بھارت نے چری کوٹ سیکٹر میں اقوام متحدہ کے مبصر مشن کی گاڑی کو نشانہ بنایا، جس میں مبصر مشن کے دو عہدیدار موجود تھے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقبل مندوب نے اپنے خط میں موقف اختیار کیا کہ اقوام متحدہ کے مبصر مشن کی گاڑی پر، جس پر عالمی ادارے کا لوگو اور جھنڈا بھی لہرا رہا تھا، فائرنگ کو بھارت کی مبنہ طور پر غیر محتاط کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا بظاہر مقصد مبینہ طور پر اقوام متحدہ کے مبصر مشن کے کردار کو محدود کرنے کی کوشش تھا۔

دوسری طرف بھارت نے اس الزام کا مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی فوج کے دستے اقوام متحدہ کے مشن کی نقل و حرکت سے پیشگی آگاہ تھے اور وہ کسی طور بھی اقوام متحدہ کے مبصر مشن کی گاڑی پر فائرنگ کے واقعہ میں ملوث نہیں ہیں۔

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان انوراگ شریواستو الزام عائد کیا کہ پاکستان اپنے زیر کنڑول علاقے میں اقوام متحدہ کے مبصر مشن کی حفاظت کو یقینی بنانے میں ناکام رہا ہے اور اسے اس معاملے کی تحقیقات کرنی چاہیے۔

متنازع کشمیر کی لائن آف کنٹرول پر دونوں جانب سے فائرنگ اور گولاباری آئے روز کا معمول ہے۔ جس میں شہری آبادی کو جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ تصویر میں پاکستانی حدود میں واقع ایک گاؤں پر گولے گرنے سے آگ بھڑک اٹھی۔
متنازع کشمیر کی لائن آف کنٹرول پر دونوں جانب سے فائرنگ اور گولاباری آئے روز کا معمول ہے۔ جس میں شہری آبادی کو جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ تصویر میں پاکستانی حدود میں واقع ایک گاؤں پر گولے گرنے سے آگ بھڑک اٹھی۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے نائب ترجمان فرحان نے جمعے کو نیویارک میں ایک بریفنگ کے دوران کہا کہ دونون فریق اس واقعہ کے بارے میں جو کچھ کہہ رہے، ہم اس سے آگاہ ہیں۔ لیکن اس مرحلے پر ہم صرف اتنا ہی جانتے ہیں کہ گاڑی کو کسی نامعلوم چیز کی زد میں آئی لیکن اس واقعہ میں نہ تو کوئی زخمی ہوا اور نہ ہی گاڑی کو کچھ نقصان پہنچا ہے، لیکن فرحان حق نے کہا کہ وہ اس واقعہ کی تحققیات کر رہے ہیں۔

بین الاقوامی امور کے تجزیہ کار حسن عسکری نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جولائی 1972 میں اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان شملہ معاہدے کے بعد بھارت نے اپنی جانب اقوام متحدہ مبصر مشن کا کردار کو محدود کر دیا اور بھارت لائن آف کنڑول کی طرف اس مشن کو آنے کی اجازت نہیں دیتا۔

بھارت کا موقف ہے کہ پاکستان اور بھارت اپنے دو طرفہ معاملات باہمی سطح پر بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے پابند ہیں۔ لیکن پاکستان بھارت کے اس موقف سے اتفاق نہیں کرتا۔

حسن عسکری کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے مبصر مشن کا قیام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے تحت عمل میں آیا ہے، اور سلامتی کونسل ہی اسےختم کر سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چونکہ ابھی تک سلامتی کونسل نے اس مشن کو ختم نہیں کیا، لہذٰا یہ مبصر مشن موجود ہے اور بھارت اس مشن سے یک طرفہ طور انکار نہیں کر سکتا۔

حسن عسکری کہتے ہیں کہ یہ مشن پاکستان کی جانب فعال ہے اور پاکستان لائن آف کنڑول پر جنگ بندی کے معاہدے کی ہونے والی مبینہ خلاف ورزیوں سے بھی اس مشن کو آگاہ کرتا رہتا ہے۔ اسی لیے اس مشن نے لائن آف کنڑول کے قریب اس واقعہ کے متعلق اقوام متحدہ کا آگاہ کیا ہے اور اقوام متحدہ نے چھان بین کا عندیہ دیا ہے جس کے نتائج سے سلامتی کونسل کو آگاہ کیا جائے گا۔

لائن آف کنٹرول پر دونوں جانب فوجی دستے تعینات ہیں۔
لائن آف کنٹرول پر دونوں جانب فوجی دستے تعینات ہیں۔

حسن عسکری کا کہنا ہے کہ اگر اس واقعہ کے بارے میں پاکستان کا موقف درست ثابت ہوتا ہے تو بھی وہ یہ سمجھتے ہیں کہ عالمی ادارہ اس پر زیادہ سے زیادہ محض افسوس کا اظہار ہی کر سکتا ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے نئی دہلی کی جانب سے لائن آف کنٹرول کے قریب اقوام متحدہ کے مبصر مشن کی گاڑی کو ان کے بقول دانستہ طور پر فائرنگ کا نشانہ بنانے کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔

عمران خان نے اتوار کو متعدد ٹوئٹس میں ایک بار پھر عالمی برداری کو متنبہ کیا کہ بھارت اندرونی صورت حال سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان کے خلاف 'فالس فلیگ آپریشن' کر سکتا ہے۔

بھارت نے پاکستانی وزیراعظم کے بیان پر تاحال کوئی تبصر ہ نہیں کیا، لیکن قبل ازیں بھارت پاکستان کے ایسے دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر چکا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG