رسائی کے لنکس

logo-print

افغان پناہ گزینوں سے متعلق واضح پالیسی وضع کرنے پر زور


فائل

پاکستان نے ا فغان پناہ گزینوں کی جلد واپسی کا معاملہ اقوام متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین اور افغان حکومت کے ساتھ بھی اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

پاکستان نے تقریباً 13لاکھ سے زائدافغان مہاجرین کے ملک میں قیام کی مدت میں ایک ماہ کی توسیع کر دی ہے جن کے پاکستان میں قیام کی قانونی حیثیت 31 دسمبر 2017ء کو ختم ہو گئی تھی۔

اقوام متحدہ، افغانستان اور پاکستان کے درمیان ایک سہ فریقی سمجھوتے کے تحت ان افغان پناہ گزینوں کی پاکستان میں قیام کی مدت میں ایک سال کی توسیع کی تجویز پاکستانی حکومت کے زیر غور تھی۔

تاہم بدھ کو پاکستان کی وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اس تجویز پر غور کرنے کے بعد کابینہ نے افغان پناہ گزینوں کے قیام کے مدت میں صرف 30 دنوں کی توسیع کی ۔

پاکستان نے ا فغان پناہ گزینوں کی جلد واپسی کا معاملہ اقوام متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین اور افغان حکومت کے ساتھ بھی اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

بعض مبصرین کا خیال ہے کہ افغان پناہ گزینوں سے متعلق پاکستان کا تازہ فیصلہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کے بعد کیا گیا ہے۔

یکم جنوری کو صدر ٹرمپ نے اپنے ٹوئٹر بیان میں کہا کہ گزشتہ 15 سالوں کے دوران پاکستان نے امریکہ سے 33 ارب ڈالر کے امداد لینے کے باوجود پاکستان ان دہشت گردوں کو پناہ دیئے ہوئے ہے جو افغانستان تعینات امریکی فورسز کے خلاف برسر پیکار ہیں۔ پاکستان اس الزام کو مسترد کرچکا ہے۔

افغانستان میں انسانی حقوق کے کارکن لال گال لال نے جمعرات کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ " میرے خیال میں اس وقت جو پاکستان اور امریکہ کے مابین تعلقات کی صورت حال ہے اس کی وجہ سے افغان مہاجرین سے متعلق فیصلے سے پاکستان سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتا ہے لیکن یہ افغانستان کا ہمسایہ ممالک ہونے کے ناطے اور اسلامی برداری اور مشترکہ ثقافت کے پیش نظر یہ اقدام مناسب نہیں ہے۔"

پاکستان کے سابق سفارت کار رستم شاہ مہمند نے کہا کہ افغان پناہ گزینوں کا معاملہ ایک انسانی مسئلہ ہے جسے ان کے بقو ل سیاسی معاملات سے الگ رکھنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ "وقتاً فوقتاً افغان مہاجرین سے متعلق ایسے سخت بیانات آتے رہتے ہیں، اس سے فائدہ نہیں ہو گا نقصان ہوگا۔ اتنے لوگوں کو اگر زبردستی بھیجا گیا تو یہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہوگی اور آپ ان حالات میں انہیں واپس بھیجیں گے جب افغانستان کو شدید شورش کا سامنا ہے۔"

انہوں نے پاکستان حکومت پر زور دیا کہ وہ افغان پناہ گزینوں سے متعلق ایک واضح پالیسی وضع کرے جو معروضی حالات کے مطابق ہو۔

دوسری طرف پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان محمد فیصل نے اس تاثر کو رد کیا ہے کہ یہ فیصلہ کسی دباؤ کی وجہ سے کیا جا رہا ہے۔

جمعرات کو معمول کی ہفتہ وار بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ " " تمام مہاجرین سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ واپس جائیں گے ہم انہیں زبردستی واپس نہیں بھیج رہے ہم نے ہمیشہ بین الاقوامی برداری سے درخواست کرتے رہے ہیں کہ افغانستان میں ایسے موافق حالات پیدا کیے جائیں تاکہ یہ اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں ۔اسی موقف کا اظہار کابینہ نے کیا ہے ۔"

اس وقت پاکستان میں 27 لاکھ سے زائد افغان شہری قانونی دستاویزات کے ساتھ بطور پناہ گزین رہ رہے ہیں جن میں تقریباً 13 لاکھ قانونی طور پر جبکہ باقی غیر قانونی طور پر ملک کے مختلف حصوں میں مقیم ہیں۔

پاکستان کا موقف ہے کہ اس نے ایک طویل عرصے تک لاکھوں کی تعداد میں افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کی ہے، لیکن پاکستانی عہدیدار وں کا کہنا ہے کہ اب اقتصادی وجوہات کی بنا پر پاکستان کے لیے ان افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کو مزید جاری رکھنا ممکن نہیں رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG