رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان میں افغان پناہ گزین خوف و ہراس کا ہدف بن سکتے ہیں


اسلام آباد میں مقیم افغان پناہ گزین (فائل فوٹو)

پاکستانی عہدیداروں کی طرف سے ایک بار پھر ملک میں مقیم افغان پناہ گزینوں کی اپنے وطن واپسی سے متعلق بیانات سامنے آ رہے ہیں جس کی وجہ ملک میں مبینہ طور پر موجود دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کے لیے امریکہ کی طرف سے آنے والا دباؤ ہے۔

عہدیدار یہ کہتے آئے ہیں کہ پاکستان نے اپنے ہاں تمام دہشت گردوں کے نیٹ ورکس ختم کر دیے ہیں لیکن دہشت گرد اور جرائم پیشہ عناصر افغان پناہ گزینوں کی بستیوں میں پناہ لیتے ہیں اور ضروری ہے کہ یہ پناہ گزین رضاکارانہ طور پر اپنے وطن واپس چلے جائیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے سال نو کے موقع پر کی گئی ٹوئٹ میں پاکستان سے متعلق دیے گئے سخت بیان کے تناظر میں گزشتہ روز ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں بھی یہ کہا گیا تھا کہ افغانستان میں موجود دہشت گردوں نے پاکستان میں لاکھوں افغان پناہ گزینوں کی موجودگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بے گناہ پاکستانیوں پر بار بار حملے کیے۔

وزیر خارجہ خواجہ آصف کے بعد وزیردفاع خرم دستگیر کے بھی بیانات سامنے آ چکے ہیں جس میں انھوں نے افغان پناہ گزینوں کی رضاکارانہ وطن واپسی کے لیے امریکہ سمیت عالمی برادری سے پاکستان سے تعاون کا کہا۔

بدھ کو اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ افغانستان میں سوویت یونین کی مداخلت کے وقت لاکھوں افغان پاکستان آئے جن کی یہ ملک دہائیوں سے میزبانی کرتا آ رہا ہے لیکن امریکہ اپنے ہاں پناہ گزینوں کو داخل نہیں ہونے دیتا۔

"میں صدر ٹرمپ کو ادب کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کے ہاں ایک مہاجر کو جانے کی اجازت نہیں جو شام سے جا سکے امریکہ کے ہوائی اڈے بند کر دیے جاتے ہیں کہ کوئی پناہ گزین امریکہ میں داخل نہ ہو جائے تو وہ 35 لاکھ افغانستان کے مہاجر جو آپ کی سوویت یونین کے خلاف جنگ کی وجہ سے پاکستان آئے تھے آپ نے ان کے لیے کیا کیا ہے۔"

پاکستان میں ہونے والے اکثر دہشت گرد واقعات کے بعد حکام ایسے بیانات دیتے رہے ہیں جس کی وجہ سے پولیس کی طرف سے افغان پناہ گزینوں کے خلاف سخت کارروائیوں اور انھیں ہراساں کیے جانے کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں۔

بظاہر اسی سختی کے باعث گزشتہ دو برسوں میں افغانستان میں ناموافق حالات کے باوجود لاکھوں کی تعداد میں افغان پناہ گزین اپنے وطن واپس لوٹ گئے۔

افغانستان میں انسانی حقوق کی ایک موقر غیر سرکاری تنظیم 'افغانستان ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کے چیئرمین لعل گل لعل اس تاثر سے اتفاق کرتے ہیں کہ میزبان ملک کے عہدیداروں کی طرف سے ایسے بیانات بلاشبہ پناہ گزینوں میں سراسیمگی کا باعث بنتے ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو چاہیے کہ وہ بین الاقوامی انسانی حقوق اور پناہ گزینوں سے متعلق میثاقوں کی پاسداری کو یقینی بنائے۔

"ہم پاکستان سے درخواست اور مطالبہ کرتے ہیں کہ ان قوانین کا احترام کرنا چاہیے یہ انسانی حقوق کا مسئلہ ہے اور اس میں سیاسی معاملات کو استعمال کرنا اچھی بات نہیں اس کے مستقبل میں دونوں ملکوں پر برے اثرات پڑ سکتے ہیں۔"

اس وقت پاکستان میں 13 لاکھ سے زائد افغان قانونی دستاویزات کے ساتھ بطور پناہ گزین رہ رہے ہیں جب کہ 6 لاکھ سے زائد غیر قانونی طور پر ملک کے مختلف حصوں میں مقیم ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ قانونی طور پر مقیم افغان پناہ گزینوں سے اسے کوئی شکایت نہیں لیکن غیر قانونی طور پر مقیم پناہ گزین اس کے لیے پریشانی کا باعث ہیں۔

اندراج شدہ افغان پناہ گزینوں کی پاکستان میں قیام کی مدت 31 دسمبر 2017ء کو ختم ہو گئی تھی لیکن حکام کے بقول اس میں مزید چھ ماہ کی توسیع کی جا رہی ہے اور جلد اس بارے میں اعلان بھی متوقع ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG