رسائی کے لنکس

پاکستان کو کسی بیل آؤٹ پیکج کی ضرورت نہیں: وزارت خزانہ


فائل

ترجمان نے یہ بات ان خدشات کے ردعمل میں کہی کہ اگر آئندہ چند ماہ میں پاکستان کی معیشت میں مثبت پیش رفت نہیں ہوتی، تو پاکستان کو غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کے لیے آئی ایم ایف سے قرضہ حاصل کرنے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے

پاکستان کی وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ حکومت کسی بیل آؤٹ پیکیج کے لیے عالمی مالیاتی ادارے یعنی 'آئی ایم ایف' یا کسی دوسرے بین الاقوامی مالیاتی ادارے سے دوبارہ رجوع کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی ہے۔

وزارت خزانہ کے ترجمان نے یہ بات ان خدشات کے ردعمل میں کہی کہ اگر آئندہ چند ماہ میں پاکستان کی معیشت میں مثبت پیش رفت نہیں ہوتی تو پاکستان کو بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے کے پیش نظر، غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کے لیے آئی ایم ایف سے قرضہ حاصل کرنے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔

وزارت خزانہ کے ترجمان کی طرف سے جاری ایک بیان میں ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ حالیہ مہینوں میں پاکستان کے اقتصادی اشاریوں میں بہتری آئی ہے جسے بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔

ترجمان کا مزید کہنا ہے کہ ایشیائی ترقیاتی بینک نے بھی اپنی ایک تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان کی برآمدات میں کمی کے باوجود پاکستانی معیشت کی شرح نمو جاری ہے۔

وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ پاکستان گزشتہ دو سالوں کے دوران برآمدات اور بیرونی ترسیلات زر میں کمی کی وجہ سے دباؤ کا شکار رہا۔ تاہم، اب اس شعبے میں نمایاں بہتری دیکھی جا رہی ہے۔

حزب مخالف کی دوسری بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے قانون ساز شفقت محمود نے جمعرات کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر کم ہو رہے ہیں جس کی ایک وجہ برآمدات میں کمی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ " ملک کا تجارتی خسارہ بڑھ رہا ہے پاکستان کے پاس صرف تین ماہ کے لیے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر موجود ہیں تو اگر معاملے ڈیفالٹ کی طرف جاتا ہے تو آئی ایم ایف کے پاس جانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہو گا۔"

تاہم اقتصادی امور کے ماہر سلمان شاہ کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری ، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر اور برآمدات میں اضافہ ہوتا ہے تو شاید پاکستان کو آئی ایم ایف کے پاس نا جانا پڑے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "آئی ایف کے پاس کب جانا پڑے گا اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ اس دوران کیپٹل مارکیٹ کا لین دین کیسے ہوتا ہے۔ پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کس نوعیت کی آتی ہے اور آئندہ مہینوں میں قرضوں کی ادائیگیاں کس طرح کی جانی ہیں۔"

وزارت خزانہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں ملک میں غیرملکی سرمایہ کاری اور برآمدات میں اضافہ اس بات کا مظہر ہے کہ پاکستان کی معیشت بہتری کی طرف گامزن ہے۔ بقول ان کے، اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ حکومت کو آئی ایم ایف یا کسی دوسرے بین الاقوامی پروگرام سے بیل آوٹ پیکیج کے لیے رجوع کرنا پڑے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG