رسائی کے لنکس

بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے امتیازی سماجی رویوں کے خاتمے پر زور


پاکستان کی مسیحی برداری کے ایک سرگرم کارکن شاہد معراج نے یہ بات دیگر مذاہب کے ماننے والے یا ‘مذہبی اقلیتوں’ کے قومی دن کے موقع پر کہی جو ہر سال 11 اگست کو منایا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان میں اقلیتوں کے قومی دن کو سرکاری سطح پر منانے کا سلسلہ 2009ء میں شروع کیا گیا تھا

پاکستان میں دیگر مذہبی برداریوں سے تعلق رکھنے والے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ ’’مذہبی رواداری اور ہم آہنگی کے فروغ کے لیے ان تمام تعصبات کو ختم کرنا ہوگا، جو پاکستان کے سماج کے مختلف طبقات میں ہم آہنگی کو فروغ دینے کی راہ میں ایک رکاوٹ ہیں‘‘۔

پاکستان کی مسیحی برداری کے ایک سرگرم کارکن شاہد معراج نے یہ بات دیگر مذاہب کے ماننے والے یا ‘مذہبی اقلیتوں’ کے قومی دن کے موقع پر کہی جو ہر سال 11 اگست کو منایا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں اقلیتوں کے قومی دن کو سرکاری سطح پر منانے کا سلسلہ 2009ء میں شروع کیا گیا تھا۔

شاہد معراج نے جمعہ کو ’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ملک کے آئین کی رو سے دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے پاکستان کے برابر کے شہری ہیں، تاہم، ان کے بقول، سماجی سطح پر ان سے روا رکھے جانے والے امتیازی سلوک کا باعث بننے والے رویوں کو دور کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ "ہمیں ان تمام تعصابات سے باہر نکلنا ہے جو ہمارے درمیان دیواریں کھڑی کرتے ہیں اور اقلیتوں کے ساتھ مذہبی اعتبار سے اور سماجی اعتبار سے جو امتیازی سلوک روا رکھے جاتے ہیں ان کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔"

اُدھر وزیر اعظم شاید خاقان عباسی نےاقلیتوں کے قومی دن کے موقع پر اپنے ایک پیغام میں مذہب، رنگ و نسل اور عقیدے سے بالا تر ہو کر ہر شہری کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تمام شہریوں کے حقوق برابر ہیں۔

تاہم، شاہد معراج کا کہنا ہے اگرچہ تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کے حقوق کو یقنی بنانے کے لیے کی قوانین موجود ہیں۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ ان کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے انتظامی سطح پر مزید عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

دوسری طرف ہندو برداری سے تعلق رکھنے والے حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی رمیش کمار نے کہا کہ پاکستان کے بانی محمد علی جناح کی 11 اگست کو ملک کی دستورساز اسبملی میں کی گئی تقریر کو تعلیمی نصاب میں شامل کرنا چاہیے، جس میں انہوں نے پاکستان کے لیے اپنی سوچ کا اظہار کیا تھا۔

واضح رہے کہ پاکستان کے بانی محمد علی نے پاکستان کی دستور ساز اسبملی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ "آپ آزاد ہیں اپنے مندروں میں جانے کے لیے۔۔۔ مسجدوں میں جانے کے لیے اور پاکستان میں اپنی کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کے لیے (آزاد ہیں)۔ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب ذات یا نسل سے ہو۔ ریاست کا اس سے کوئی واسطہ نہیں۔"

پاکستان مسلم اکثریتی آبادی کا ملک ہے۔ لیکن، یہاں دیگر مذاہب کے ماننے والوں کی ایک بڑی تعداد بھی آباد ہے جن کے لیے ناصرف ملک کے قانون ساز اداروں میں نمائندگی موجود ہے بلکہ حالیہ سالوں میں ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے کئی قوانین بھی وضع کیے گئے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG