رسائی کے لنکس

پاکستان اور امریکہ کے درمیان مسلسل فوجی رابطے اہم ہیں: خرم دستگیر


نجی چینل 'آج نیوز' سے گفتگو کرتے ہوئے، وزیر دفاع نے کہا ہے کہ اس وقت یہ رابطے نا ہونے کے برابر ہیں، جنہیں مسلسل استوار رکھنا ضروری ہے بصورت دیگر، ان کے بقول، ’’معاملات میں بہتری نہیں آ سکتی ہے‘‘

پاکستان کے وزیر دفاع خرم دستگیر نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان متواتر فوجی رابطوں کی ضرورت ہے، تاکہ کسی بھی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نا آئے۔

خرم دستگیر نے نجی چینل 'آج نیوز' سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت یہ رابطے نا ہونے کے برابر ہیں، جنہیں مسلسل استوار رکھنا ضروری ہے بصورت دیگر، ان کے بقول، ’’معاملات میں بہتری نہیں آ سکتی ہے‘‘۔

وزیر دفاع کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان و امریکہ کے تعلقات امریکی انتظامیہ کی پاکستان میں مبینہ شدت پسندوں کی موجودگی سے متعلق تحفظات کی وجہ سے نا صرف ٹھہراؤ کا شکار ہیں بلکہ معمول کے سفارتی اور فوجی رابطوں پر بھی اس کا منفی اثر پڑا ہے۔

بعض حلقوں کی طرف سے ان خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ امریکہ ان شدت پسندوں کے خلاف کارروائی بھی کر سکتا ہے۔

تاہم، وزیر دفاع خرم دستگیر کا کہنا ہے کہ ایسی کوئی بھی کارروائی کسی طور سود مند نہیں ہوگی۔

خرم دستگیر نے کہا کہ "جب امریکہ کسی فوجی کارروائی کا امکان ظاہر کرتا ہے، انہیں یہ دیکھنا ہے اور ہم بھی ان کو بتائیں گے کہ اس کے پاکستان کی اندرونی سیاسی صورت حال پر کیا نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔۔۔یہ جو راستہ انہوں نے سوچا ہے اس سے پاکستان اندرونی طور پر عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔"

دفاعی امور کی تجزیہ کار ماریہ سلطان نے جمعے کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "اگر دونوں طرف اعتماد کا فقدان ہوتا ہے، اگر کسی بھی طرف سے کوئی کارروائی ہوتی ہے تو اس کا جوابی ردعمل آئے گا جو بہر حال دونوں ممالک کے لیے بہتر نہیں ہوگا، کیونکہ دونوں ملک چاہتے ہیں کہ افغانستان کے اندر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں، بلکہ خطے کے استحکام کے لیے بھی (مل کر) اہم اقدامات اٹھائیں۔"

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ افغانستان اور خطے سے متعلق اپنی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں۔ اسلام آباد متعدد بار اپنے اس مؤقف کا اعادہ کر چکا ہے کہ پاکستان میں ایسے محفوظ ٹھکانے موجود نہیں جو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہوں۔

دوسری طرف، پاکستان میں تعینات افغانستان کے سفیر عمر زخیلوال اور امریکہ کے سفیر ڈیوڈ ہیل نے جمعہ کو اسلام آباد میں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے الگ الگ ملاقات کی۔

ایک سرکاری بیان کے مطابق، افغان سفیر زخیلوال کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم عباسی نے خطے اور خاص طور پر افغانستان میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے افغانوں کی قیادت میں مصالحتی عمل کی حمایت کا بھی اعادہ کیا۔

امریکی سفیر ہیل سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم عباسی نے مشترکہ مفادات کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ رابطوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے پاکستان اور امریکہ کے کئی دہائیوں پر محیط باہمی تعلقات کو متخلف سطح کے رابطوں کے ذریعے مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG